Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 3

143 - 689
٦ وقول الاوزاعی لا یورث الشبہة لمخالقة القیاس  (٩٨٩) ولو اکل بعد ما اغتاب متعمدا فعلیہ القضاء والکفارة کیف ما کان)    ١ لان الفطر یخالف القیاس والحدیث مؤل بالاجماع  

کمزور ہو جا تا ہے اور روزہ توڑنے کے قریب ہو جا تا ہے ، تاہم اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا اس کے با وجود دوبارہ کھا لیا تو اس پر کفارہ لازم ہو گا ، اس کی وجہ یہ ہے کہ روزہ نہ ٹوٹنے میں اس کو کوئی شبہ ہی نہیں رہا تو گو یا کہ روزہ کی حالت میں جان کر کھا یا اس لئے اس پر کفارہ ہو گا ۔ 
ترجمہ:  ٦  اور امام اوزاعی  کا قول شبہ پیدا نہیں کرے گا ، اس لئے کہ یہ قیاس کے مخالف ہے ۔ 
تشریح :  اوپر کی حدیث کی بنا پر امام اوزاعی  کا قول یہ ہے کہ پچھنا لگا نے سے روزہ ٹوٹ جا تا ہے ۔ لیکن اس قول سے شبہ پیدا نہیں ہو گا ، اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ قول حضور ۖ کی دوسری حدیث کہ پچھنا لگوانے سے روزہ نہیں ٹوٹتا ہے ،کے خلاف ہے ۔ حدیث یہ ہے۔ عن ابی  سعید  الخدری قال قال رسول اللہ  ۖ: ثلاث لا یفطرن  الصائم : الحجامة و القیء و الاحتلام   ( ترمذی شریف ، باب  ماجاء فی الصائم یذرعہ القییٔ ص ١٥٢ نمبر ٧١٩ ابوداؤد شریف ، فی الصائم یحتلم نھارا فی شھر رمضان ص ٣٣٠ نمبر ٢٣٧٦ بخاری شریف ، باب الحجامة والقییٔ للصائم، نمبر١٩٣٨ )  اس حدیث میں ہے کہ پچھنا سے روزہ نہیں ٹوٹتا ۔ اور امام اوزاعی  کا قول قیاس کے بھی مخالف ہے ، کیونکہ قیاس کا تقاضا ء یہ ہے کہ بدن میں داخل ہو نے سے روزہ ٹوٹتا ہے بدن سے نکلنے سے روزہ نہیں ٹوٹتا ، اور یہاں بدن سے خون نکل رہا ہے اس لئے قیاس کا تقاضا ء بھی یہی ہے کہ روزہ نہ ٹوٹے ، اس لئے امام اوزاعی کے قول سے آدمی کو شبہ پیدا نہیں ہو نا چاہئے۔
لغت :  لا یورث الشبة : شبہ پیدا نہیں کرے گا ۔
ترجمہ:  (٩٨٩)  اگر غیبت کر نے کے بعد جان کر کھا لیا تو اس پر قضاء اور کفارہ دونوںہیں ، جیسا بھی ہو ۔ 
ترجمہ:   ١  اس لئے کہ روزہ ٹوٹنا قیاس کے خلاف ہے اور بالاجماع حدیث کی تاویل کی گئی ہے ۔ 
تشریح :  بعض حدیث کے اشارے سے پتہ چلتا ہے کہ چغلی کر نے سے روزہ ٹوٹ جا تا ہے لیکن تمام ائمہ نے اس حدیث کی تاویل کی ہے کہ غیبت سے روزے کا ثواب نہیں ملے گا ۔حدیث یہ ہے ۔ مر رسول اللہ  ۖ علی رجل بین یدی حجام و ذالک فی رمضان و ھما یغتابان رجلا فقال افطر الحجام و المحجوم ۔ ( بیہقی شعب الایمان ، باب الرابع الاربعون من شعب الایمان ، ج خامس ، ص ٣٠٧، نمبر ٦٧٤٣)  اس حدیث سے پتہ چلا کہ غیبت سے روزہ ٹوٹ جا تا ہے ۔(٢) عن ابن عباس أن رجلین صلیا صلاة الظھر أو العصر و کانا صائمین فلما قضی النبی  ۖ الصلوة قال اعیدا وضوئکما و صلاتکما و امضیا فی صومکما و اقضیا ہ یو ما آخر۔ ( بیہقی شعب الایمان ، باب الرابع 

Flag Counter