Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 3

144 - 689
(٩٩٠) واذا جومعت النائمة والمجنونة وہی صائمة علیہا القضاء دون الکفارة)  ١ وقال زفر والشافعی لاقضاء علیہما اعتباراً بالناسی والعذر ابلغ لعدم القصد ٢ ولنا ان النسیان یغلب وجودہ وہذانادر ولا تجب الکفارة لانعدام الجناےة

الاربعون من شعب الایمان ، ج خامس ، ص ٣٠٣، نمبر٦٧٢٩)  اس حدیث کے اشارے سے بھی معلوم ہو تا ہے غیبت سے روزہ ٹوٹ جا تا ہے ۔ لیکن اس کی تاویل کی گئی ہے ، اس لئے کسی نے غیبت کی اور اس حدیث کی وجہ سے یہ سمجھا کہ روزہ ٹوٹ گیا اس لئے دو بارہ کھا لیا تو کفارہ لازم ہو گا۔
وجہ :  (١)  اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ غیبت کر نے سے روزہ ٹوٹنا خلاف قیاس ہے اس لئے کہ اس میں کوئی چیز بدن میں داخل نہیں ہو تی یہ تو صرف بات ہے ۔(٢) اور دوسری وجہ یہ ہے کہ اوپر کی حدیث کی تمام ائمہ نے تاویل کی ہے کہ اس سے روزہ نہیں ٹوٹے گا اس لئے اس حدیث پر اعتماد کر کے دو بارہ کھا یا تو جان کر کھا نا ہوا اس لئے کفارہ لازم ہو گا ۔ 
 ترجمہ:  (٩٩٠) اگر سوئی ہوئی یا مجنونہ عورت سے جماع کیا گیا تو عورت پر قضاء ہے کفارہ نہیں ہے ۔ 
تشریح :جان کر جماع کرانے سے کفارہ لازم ہو تا ہے اور سوئی ہوئی عورت نے جان کر جماع نہیں کرا یا اس کو تو پتہ بھی نہیں ہے ، اسی طرح مجنونہ عورت کو تو عقل ہی نہیں ہے اس لئے اس کا کوئی اختیار نہیں ہے اس لئے ان دو نوں پر کفارہ نہیں ہے ۔صرف قضاء ہے۔  
ترجمہ:  ١  امام زفر اور امام شافعی  نے فر ما یا کہ دو نوں پر قضاء بھی نہیں ہے ،وہ بھول پر قیاس کرتے ہیں اور یہ عذر تو بھول سے بھی بڑھا ہوا ہے اس لئے کہ دو نوں کا ارادہ نہیں ہے ۔
تشریح : امام زفر  اور امام شافعی  فر ما تے ہیں کہ سوئی ہو ئی عورت سے اور مجنونہ عورت سے روزے کی حالت میں جماع کر لیا تو ان پر کفار ہ تو ہے ہی نہیں ان کا روزہ بھی نہیں ٹوٹا ،اس کی وجہ یہ ہے کہ بھول کر جماع کر لیا تو روزہ نہیں ٹوٹتا تو سونا اور مجنون ہو نا بھول سے بھی بڑا عذر ہے اس لئے اس سے بھی روزہ نہیں ٹوٹے گا ۔
ترجمہ:  ٢  ہماری دلیل یہ ہے کہ بھول کا وجود با رہا ہو تا ہے اور سوئی ہو ئی عورت کے ساتھ جماع نادر ہے اس لئے قضاء واجب ہو گا ، اور کفارہ لازم نہیں ہو گا اس لئے کہ جرم نہیں ہے ۔  
تشریح :  بھول سے کھا نا یا جماع کر نا بارہا ہو تا ہے اس لئے وہ عذر ہے اس لئے اس سے روزہ نہیں ٹوٹے گا  اور سوئی ہوئی عورت سے جماع کر نا یا مجنونہ عورت سے جماع کر نا کبھی کبھار ہو تا ہے اس لئے اس کو عذر قرار نہیں دیا اس لئے اس سے روزہ ٹوٹے گا اور قضاء لازم ہوگی ، البتہ اس میں ان عورتوں کا ارادہ اور جرم نہیں ہے اس لئے ان پر کفارہ لازم نہیں ہو گا ۔   

Flag Counter