Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 3

142 - 689
٣ ولو بلغہ الحدیث فاعتمدہ فکذلک عند محمد لان قول الرسول علیہ السلام لا ینزل عن قول المفتی  ٤    وعن ابی یوسف خلاف ذلک لان علی العامی الاقتداء بالفقہاء لعدم الاہتداء فی حقہ الیٰ معرفة الاحادیث   ٥  وان عرف تاویلہ تجب الکفارة لانتفاء الشبہة 

کے اس نے دو بارہ کھا لیا تو کفارہ لازم نہیں ہو گا ، اس لئے کہ عامی آدمی کے حق میں فتوی دلیل شرعی ہے ، اس لئے گو یا کہ اس نے دلیل شرعی پر اعتماد کر کے یہ سمجھا کہ روزہ ٹوٹ گیا اور اس کے بعد کھا یا تو جان کر روزہ توڑنا نہیں ہوا اس لئے کفارہ لازم نہیں ہو گا ۔ 
ترجمہ:٣   اور اگر اس آدمی کو حدیث پہونچی اور اس پر اعتماد کر کے کھا یا تو امام محمد  کے نزدیک ایسے ہی ہے ]یعنی کفارہ لازم نہیں ہو گا [ اس لئے کہ رسول اللہ ۖ کا قول مفتی کے قول سے کم نہیں ہے۔
تشریح :  کسی آدمی کو حضور ۖ کی وہ حدیث پہونچی جس میں ہے۔ افطر الحاجم والمحجوم، کہ پچھنا لگوانے سے روزہ ٹوٹ گیا اور اس حدیث پر اعتماد کر کے دو بارہ کھا لیا تو امام محمد  فر ما تے ہیں کہ کفارہ لازم نہیں ہو گا ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر مفتی کے کہنے پر دو بارہ کھا لے تو کفارہ لازم نہیں ہو تا تو حضور ۖ کی حدیث پر اعتماد کر کے یہ سمجھا کہ پچھنا لگوانے سے روزہ ٹوٹ گیا اور کھا لیا تو بدرجہ اولی کفارہ لاز م نہیں ہو گا ۔اس لئے کہ حضور ۖ کا قول مفتی کے قول سے کم نہیں ہے ۔ 
ترجمہ:  ٤  اور امام ابو یوسف  اس کے خلاف ہے ، اس لئے کہ عامی آدمی پر فقہاء کی اقتداء کر نا لازم ہے اس لئے کہ اس کو حدیث کی معرفت کا حاصل ہو نا نا ممکن ہے ۔
تشریح :  امام ابو یوسف  فر ما تے ہیں کہ عامی آدمی نے حدیث پر اعتماد کر کے یہ سمجھا کہ پچھنا لگوانے سے روزہ ٹوٹ جا تا ہے اور پھر کھا لیا تو اس پر کفارہ لازم ہے ، اور فقیہ نے فتوی دیا کہ پچھنا لگوانے سے روزہ ٹوٹ گیا اور اس پر اعتماد کر کے یہ سمجھا کہ روزہ ٹوٹ گیا اور پھر کھا لیا تو اس پر کفارہ نہیں ہے ۔۔ اھتداء :ہدایت پا نا ۔ معرفة الحدیث : حدیث کی معرفت ، حدیث کا اصل مفہوم ۔ 
وجہ :  (١) اس کی وجہ یہ ہے کہ عامی آدمی کو یہ پتہ نہیں چلے گا کہ یہ حدیث منسوخ ہے یا نہیں ہے ، یا اس حدیث کا ظاہری معنی کیا ہے اور اصل معنی کیا ہے اس لئے اس کو حدیث پر اعتماد کر کے دو بارہ نہیں کھا نا چاہئے ، البتہ اس کے لئے فقیہ کا فتوی حجت شرعی ہے کیونکہ اس کے لئے یہی ہے کہ وہ فقیہ کی بات مان کر چلے ، پس اگر فقیہ نے فتوی دیا کہ پچھنا سے روزہ ٹوٹ گیا اور اس پر اعتماد کر کے دو بارہ کھا لیا تو کفارہ نہیں ہو گا ۔           
 ترجمہ:  ٥  اور اگر حدیث کی تاویل جا نتا تھا پھر بھی دو بارہ کھا لیا تو کفارہ لازم ہو جائے گا ، اس لئے کہ اس کے حق میںشبہ ختم ہو گیا ۔
تشریح :  کوئی عالم آدمی تھا جو حضور کی حدیث ۔ افطر الحاجم و المحجوم ۔ کا  مطلب جا نتا تھا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس  آدمی 

Flag Counter