Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 3

141 - 689
(٩٨٨) ولواحتجم وظن ان ذٰلک یفطِرہ ثم اکل متعمدا علیہ القضائ)   ١ والکفارة لان الظن ما استندالی دلیل شرعی   ٢   الااذا افتاہ فقیہ بالفساد لان الفتوی دلیل شرعی فی حقہ

ترجمہ:  (٩٨٨)  اگر پچھنا لگوایا اور گمان ہوا کہ روزہ ٹوٹ گیا  پھر جان کر کھا لیا تو اس پر قضاء اور کفارہ ہے ۔
تشریح :  پہلے حدیث گزر چکی ہے کہ پچھنا لگوانے سے خون نکلتا ہے بدن میں داخل نہیں ہو تا اس لئے اس سے روزہ نہیں ٹوٹے گا ، حدیث یہ گزری ہے ۔(١) عن ابی سعید الخدری قال قال رسول اللہ  ۖ: ثلاث لا یفطرن  الصائم : الحجامة و القیء و الاحتلام   ( ترمذی شریف ، باب  ماجاء فی الصائم یذرعہ القییٔ ص ١٥٢ نمبر ٧١٩ ابوداؤد شریف ، فی الصائم یحتلم نھارا فی شھر رمضان ص ٣٣٠ نمبر ٢٣٧٦ بخاری شریف ، باب الحجامة والقییٔ للصائم، نمبر١٩٣٨) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ پچھنا لگوانے سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔(٢) عن ابن عباس  قال : احتجم النبی  ۖ و ھو صائم ۔( بخاری شریف ، باب الحجامة والقییٔ للصائم، نمبر١٩٣٩) اس حدیث میںہے کہ حضور ۖ نے روزے کی حالت میں پچھنا لگوا یا ، جس سے معلوم ہوا کہ روزہ نہیں ٹوٹا ۔ لیکن دوسری حدیث ہے کہ پچھنا لگوانے سے روزہ ٹوٹے جا ئے گا ، حدیث یہ ہے (٣)  عن ثوبان عن النبی  ۖ قال: أفطر الحاجم و المحجوم   ( ابوداؤد شریف ، فی الصائم یحتلم نھارا فی شھر رمضان ص ٣٣٠ نمبر٢٣٦٧ ترمذی شریف ، باب ما جاء فی کراھیة الحجامة للصائم ، ص ١٩٤، نمبر ٧٧٤ بخاری شریف ، باب الحجامة والقییٔ للصائم، نمبر١٩٣٨)اس حدیث میں ہے کہ پچھنا لگوانے سے روزہ ٹوٹ جائے گا ۔ لیکن تمام ائمہ نے اس حدیث کی تاویل کی ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ پچھنا لگوانے سے آدمی کمزور ہو جائے گا اور روزہ توڑنے کے قریب ہو جائے گا تا ہم اس سے روزہ نہیں ٹوٹے گا ۔ اس کے با وجود کسی نے پچھنا لگوا یا اور اور اس حدیث کی بنا پرگمان کیا کہ روزہ ٹوٹ گیا پھر دو بارہ جان کر کھا لیا تو اس پر قضاء بھی ہے اور کفارہ بھی ہے ۔
وجہ : (١) اس کی وجہ یہ ہے کہ ظاہری طور پر یہ سمجھ میں آتا ہے کہ بدن میں داخل ہو نے سے روزہ ٹوٹتا ہے اور یہاںبدن سے خون نکلا ہے اس لئے روزہ نہیں ٹوٹنا چا ہئے ۔ جب عقل میں یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ پچھنا لگوانے سے روزہ نہیں ٹوٹنا چاہئے اور فتوی بھی یہی ہے تو پھر کھا نا گو یا کہ جان کر کھا نا ہے اس لئے قضاء کے ساتھ کفارہ بھی لازم ہو گا ۔  
ترجمہ :   ١  اس لئے کہ روزہ ٹوٹنے کا گمان کسی دلیل شرعی کی طرف منسوب نہیں ہے ۔
تشریح : یہ جو گمان ہوا کہ پچھنا لگوانے سے روزہ ٹوٹ گیا یہ ظاہر عقل میں بھی نہیں آتی ہے ، اور حدیث کا بھی مطلب یہ نہیں ہے اس لئے اس کا گمان کسی دلیل شرعی کی طرف منسوب نہیں ہے۔
ترجمہ:  ٢  مگر کسی فقیہ نے اس کو فتوی دیا ہو تو کفارہ نہیں ہے اس لئے کہ اس کے حق میں فتوی دلیل شرعی ہے ۔ 
تشریح :  کسی عامی آدمی کو کسی فقیہ نے حدیث کی بنا پر فتوی دے دیا کہ پچھنا لگوانے سے روزہ ٹوٹ گیا ، اور اس فتوی پر یقین کر 

Flag Counter