٢ وان بلغہ الحدیث علمہ فکذٰلک فی ظاہر الرواےة ٣ وعن ابی حنیفة انہا تجب وکذا عنہما لانہ لا اشتباہ فلا شبہة ٤ وجہ الاول قیام الشبہة الحکمےة بالنظر الی القیاس فلا ینتفی بالعلم کوطی الاب جارےة ابنہ
قضاء علیہ ولا کفارةولیتم صومہ (دار قطنی ٣ کتاب الصوم، ج ثانی ص ١٥٨ نمبر ٢٢٢٣) اس حدیث سے بھی معلوم ہوا کہ بھول سے کھایاتو روزہ نہیں ٹوٹا اور نہ اس کی قضا کرنے کی ضرورت ہے اور نہ کفارہ دینے کی ضرورت ہے۔
ترجمہ: ٢ اور اگر اس کو حدیث پہونچی اور اس حدیث کو جان بھی لیا تب بھی ظاہر روایت میں ایسا ہی ہے ] یعنی کفارہ لازم نہیں ہو گا [
تشریح : اگر کسی کو حدیث معلوم ہو کہ بھول کر کھا نے سے روزہ نہیں ٹوٹتا ہے اور اس کا پوراعلم بھی ہو پھر بھی سمجھا کہ روزہ ٹوٹ گیا اور دو بارہ جان کر کھا لیا تو ظاہر روایت میں ہے کہ کفارہ لازم نہیں ہو گا ، کیونکہ کھا نے سے روزہ ٹوٹنے کا شبہ مو جود ہے ۔
ترجمہ : ٣ امام ابو حنیفہ سے ایک روایت یہ کہ کفارہ واجب ہو گا اور ایسے ہی روایت صاحبین سے بھی ہے اس لئے کہ حدیث جاننے کے بعد کوئی اشتباہ نہیں ہے اس لئے کوئی شبہ بھی نہیں ہے ۔
تشریح : امام ابو حنیفہ سے ایک روایت ہے اور اس طرح صاحبین کی بھی روایت ہے کہ جس کو حدیث معلوم ہوکہ بھول سے کھا نے سے روزہ نہیں ٹوٹتا تو روزہ نہ ٹوٹنے میں کوئی شبہ نہیں رہا ، اور جب روزہ نہیں ٹوٹا اور پھر جان کر کھا لیا تو اس پر کفارہ لازم ہو نا چاہئے۔اس لئے کہ بغیر شبہ کے اس نے دو بارہ کھا یا ۔
ترجمہ : ٤ پہلی روایت کی وجہ ]یعنی کفارہ نہ لازم ہو نے کی وجہ [ قیاس کی طرف دیکھتے ہو ئے حکمی شبہ قائم ہے ، اس لئے حدیث جاننے سے شبہ ختم نہیں ہو گا ، جیسے باپ اپنے بیٹے کی باندی سے وطی کر لے ۔
تشریح : امام ابو حنیفہ کی پہلی روایت یہ تھی کہ بھول کر کھا نا کھا یا اور پھر جان کر کھا نا کھا یا تو کفارہ لازم نہیں ہو گا ، اس کی وجہ یہ ہے قیاس کو دیکھتے ہوئے حکمی شبہ مو جود ہے کیونکہ کھا نے کے بعد عام ذہن میں یہی آتا ہے کہ روزہ ٹوٹ گیا اس لئے چاہے حدیث کا علم ہو اس سے شبہ ختم نہیںہو تا اور جب روزہ ٹوٹنے کا شبہ ہے توکھانے سے کفارہ لازم نہیں ہو گا ۔ اس کی ایک مثال یہ دیتے ہیں کہ باپ نے بیٹے کی باندی سے وطی کر لی تو اس کی وجہ سے حد لازم نہیں ہو گی چا ہے اس کو معلوم ہو کہ بیٹے کی باندی اس کے لئے حرام ہے ، کیونکہ حدیث میں ہے کہ۔ انت و مالک لابیک ۔ کہ تم اور تمہارا مال تمہارے باپ کا ہے ۔ اس حدیث سے شبہ پیدا ہو گیا کہ بیٹے کی باندی باپ کی ملکیت ہے ، اسلئے معلوم بھی ہو کہ بیٹے کی باندی حرام ہے پھر بھی اس حدیث کی وجہ سے ملکیت کا شبہ پیدا ہو گیا اور حد ساقط ہو گئی ، اسی طرح یہاں بھی شبہ ہے اس لئے کفارہ ساقط ہو جائے گا ۔