٣ ولوکان شاکا فیہ وتبین انہا لم تغرب ینبغی ان تجب الکفارة نظرًا الیٰ ما ہو الاصل وہو النہار (٩٨٧) ومن اکل فی رمضان ناسیا وظن ان ذالک یفطرہ فاکل بعد ذلک متعمدا علیہ القضاء دون الکفارة) ١ لان الاشتباہ استند الی القیاس فتحقق الشبہة
لئے کہ ابھی دن ہی چل رہا ہے اس لئے اصل تو دن ہوا ، اور غالب گمان بھی ہے کہ دن ہی ہے اس لئے اصل کو راجح قرار دیتے ہوئے قضاء لازم ہوگی۔
ترجمہ: ٣ اور اگرسورج غروب ہو نے میں شک ہو اور بعد میں ظاہر ہو ا کہ سورج غروب نہیں ہوا تو مناسب ہے کہ کفارہ واجب ہو اصل کی طرف نظر کرتے ہوئے اور اصل تو دن ہے ۔
تشریح : یہ مسئلہ اس اصول پر ہے کہ پہلے جو چل رہا ہو وہ اصل ہے جب تک کہ اس کے خلاف کا یقین نہ ہو ، یہاں پہلے سے دن چل رہا ہے اور سورج غروب ہو نے میں غالب گمان بھی نہیں ہے صرف شک ہے اور کھا نا کھا لیا اور بعد میں ظاہر ہوا کہ سورج غروب نہیں ہوا تھاتو گویا کہ دن میں جان کر کھا نا کھا یا اس لئے اصل کا اعتبار کر تے ہوئے کفارہ لازم ہو نا چاہئے ۔
ترجمہ: (٩٨٧) کسی نے رمضان میں بھول کر کھا یا ]تو روزہ نہیںٹوٹا تھا [ پھر گمان کیا کہ اس سے روزہ ٹوٹ گیا ، اور اس کے بعد جان کر کھا لیا تو اس پر قضاء ہے کفارہ نہیں ہے ۔
تشریح : کسی نے رمضان میں بھول کر کھا لیا تو اوپر حدیث گزر چکی کہ بھول کر کھانیسے روزہ نہیں ٹوٹتا ، لیکن پھر بھی اس کو یہ گمان ہوا کہ شاید روزہ ٹوٹ گیا ہے اس لئے دوبارہ جان کر کھا لیا تو اس پر ایک روزہ کی قضاء ہے ، اس پر کفارہ نہیں ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے بھول کر کھا نے سے اس کو شبہ ہو گیا کہ روزہ ٹوٹ گیا اس لئے دو بارہ کھا نے میں یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اس نے جان کر کھانے کا جرم کیا ہے اس لئے کفارہ لازم نہیں ہو گا ۔
ترجمہ: ١ اس لئے کہ شبہ قیاس کی طرف منسوب ہوا ہے اور اس سے شبہ متحقق ہو گیا ۔
تشریح : اس عبارت کا مطلب یہ ہے کہ کسی نے بھول کر کھا لیا تو چاہے حدیث یاد ہو یا نہ ہو ہر ایک کا قیاس یہی کہتا ہے کہ روزہ ٹوٹ گیا کیونکہ اس نے کھا یا ہے ، اور جب یہ گمان ہوا کہ روزہ ٹوٹ گیا تو دوبارہ جان کر کھا نے سے یہ نہیں کہا جا سکتا ہے کہ اس نے جان کر روزہ توڑا ہے اس لئے کفارہ لازم نہیں ہو گا ۔ اس حدیث میں ہے کہ بھول کر کھانے سے روزہ نہیں ٹوٹے گا ۔ عن ابی ھریرة عن النبی ۖ قال اذا فاکل او شرب فلیتم صومہ فانما اطعمہ اللہ وسقاہ (بخاری شریف ، باب الصائم اذا اکل او شرب ناسیا ص ٢٥٩ نمبر ١٩٣٣ ابو داؤد شریف ، باب من اکل ناسیا ،ص ٣٣٣نمبر ٢٣٩٨ ) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کہ بھول سے کھایا یا پیا تو روزہ نہیں ٹوٹا اس کو پورا کرے (٢) عن ابی ھریرة عن النبی ۖ قال من افطر فی شھر رمضان ناسیا فل