(٩٨٥) ولو شک فی غروب الشمس لا یحل لہ الفطر) ١ لان الاصل ہو النہار (٩٨٦) ولو اکل فعلیہ القضاء ) ١ عملًا بالاصل ٢ وان کان اکبر رایہ انہ اکل قبل الغروب فعلیہ القضاء رواےةً واحدة لان النہار ہو الاصل
پر ہے اس لئے اس پر کفارہ لازم نہیںہو گا ۔
وجہ : (١) فقال عمر ... من کان افطر فان قضاء یوم یسیر۔ (مصنف عبد الرزاق ، باب الافطار فی یوم مغیم ج رابع ص ١٣٨ نمبر٧٤٢٣ سنن بیہقی ، باب من أکل و ھو یری أن الشمس قد غربت ثم بان أنھا لم تغرب ، ج رابع ، ص ٣٦٧، نمبر ٨٠١٣) اس اثر سے معلوم ہوا کہ ایک دن کی قضا کرنا آسان ہے اور کفارہ لازم نہیں ہوگا (٢) دوسرے اثر میں ہے ۔فقال عمر ؟ فو اللہ ما تجنفنا الاثم و فی حدیث عمر الآخر أمر بقضائہ (مصنف عبد الرزاق ، باب الافطار فی یوم مغیم ج رابع ص ١٣٨ نمبر٧٤٢٥ سنن بیہقی ، باب من أکل و ھو یری أن الشمس قد غربت ثم بان أنھا لم تغرب ، ج رابع ، ص ٣٦٨، نمبر ٨٠١٦) اس اثر میں ہے کہ ہم نے کوئی گناہ کا ارادہ نہیں کیا ہے ہم نے تو غلطی سے کھا یا ہے ،اس لئے اس کی جگہ پر ایک دن قضا ء کر لی جائے گی ۔
اصول: ۔ پہلے سے کوئی چیز چل رہی ہو تو دوسری چیز کے یقین کے بغیر پہلی چیز ختم نہیں ہو گی ۔
ترجمہ: (٩٨٥) اور اگر سورج کے غروب ہو نے میں شک ہے تو روزہ توڑنا حلال نہیںہے ۔
ترجمہ: ١ اس لئے کہ اصل تو دن ہی ہے ۔
تشریح : سورج غروب ہوا یا نہیں ہوا اس میں شک ہے تو ابھی افطار نہ کرے ، کیونکہ ابھی دن چل رہا ہے تو اصل دن ہے ، اس لئے جب تک کہ سورج غروب ہو نے کا یقین نہ ہو اس وقت تک روزہ نہ توڑے ۔ اصول اوپر گزر چکا ہے ۔
ترجمہ: (٩٨٦) اور اگر کھا لیا تو اس پر قضاء ہے ۔
ترجمہ: ١ اصل پر عمل کر تے ہوئے ۔
تشریح : سورج غروب ہو نے میں شک تھا اور روزہ توڑ لیا تو روزہ نہیں ہوا اس لئے قضاء واجب ہو گی ، اس کی وجہ یہ ہے کہ اصل تو دن ہے رات ہو نے کا تو صرف گمان ہے اس لئے گو یا کہ دن میں کھا لیا اس لئے قضاء لازم ہو گی ، البتہ چونکہ اسکو رات ہونے کا گمان ہے اسلئے شبہ پیدا ہوگیا اور شبہ سے کفارہ ساقط ہوجاتا ہے اس لئے کفارہ لازم نہیں ہو نا چاہئے ۔
ترجمہ: ٢ اور اگر غالب گمان یہ ہو کہ سورج کے غروب سے پہلے ہی کھا لیا ہے تو اس پر قضاء ہے ، ایک روایت یہی ہے اس لئے کہ اصل تو دن ہی ہے
تشریح : غالب گمان یہ تھا کہ ابھی سورج غروب نہیں ہوا ہے اور روزہ توڑ لیا تو دن میں روزہ توڑا اس لئے قضاء لازم ہو گی ، اس