٣ وان کا ن اکبر رأیہ انہ اکل والفجر طالع فعلیہ قضاؤہ عملاً بغالب الرأی وفیہ الاحتیاط ٤ وعلی ظاہر الرواےة لاقضاء علیہ لان الیقین لا یزال الا بمثلہ (٩٨٤) ولو ظہر ان الفجر طالع لا کفارة )
١ علیہ لانہ بنی الامر علی الاصل فلا یتحقق العمدےة
بات کو چھوڑ کر یقین کی بات پر عمل کرو ۔ (٢) دوسری وجہ یہ ہے کہ اوپر کی ساری صورتوں میںعموما فجر ہو چکی ہو تی ہے لیکن چاندنی رات کی وجہ سے ، یا بادل کی وجہ سے آدمی کو پتہ نہیں چلتا ہے کہ فجر ہوئی ہے یا نہیں اس لئے احتیاط کا بھی تقاضا یہ ہے کہ نہ کھا ئے ۔
لغت : یستبین : ظاہر ہو ، بان سے مشتق ہے ۔ مقمرة : قمر سے مشتق ہے ، چاندنی رات ۔متغیمة : غیم سے مشتق ہے ،بادل والی رات ۔علة : مرض ۔ یریب : شک ہوا کرتا ہے ریب سے مشتق ہے ۔
ترجمہ: ٣ اور اگر غالب گمان ہو کہ ایسے وقت میں کھا یا ہے کہ فجر طلوع ہو چکی ہے تو اس پر اس دن کی قضاء ہے غالب رائے پر عمل کر تے ہوئے اور اسی میں احتیاط ہے ۔
تشریح : اگر غالب گمان یہ ہے کہ ایسے وقت میں سحری کھا ئی ہے کہ صبح صادق ہو چکی ہے تو غالب رائے پر عمل کر تے ہوئے اس پر اس دن کی قضا ہے ۔ اس اثر میں اس کا ثبوت ہے ۔ عن ابن عون أن محمد تسحر و ھو یری أن علیہ لیلا ثم استبان لہ انہ تسحر بعد ما أصبح فقال أما أنا الیوم فمفطر ۔ ( مصنف ابن ابن ابی شیبة ، باب فی الرجل یتسحر و ھو یری أن علیہ لیلا ، ج ثانی ، ص ٢٨٦، نمبر ٩٠٣٨) اس اثر میں ہے کہ رات سمجھتے ہو ئے کھا لیا اور بعد میں پتہ چلا کہ صبح ہو چکی ہے تو اس دن کی قضائکرے۔
ترجمہ: ٤ اور ظاہر روایت پر یہ ہے کہ اس پر قضا ء نہیں ہے اس لئے کہ یقین یقین ہی سے زائل ہو تا ہے ۔
تشریح : ظاہر روایت میں ہے کہ اس کو قضاء کر نے کی ضرورت نہیں ہے ، کیونکہ پہلے سے یقین ہے کہ ابھی رات چل رہی ہے اس لئے قاعدے کے اعتبار سے جب تک صبح صادق کا یقین نہ ہو جائے اس کو رات ہی سمجھا جائے گا اور پہلے یہ فرض کیا ہے کہ اس کو شک ہے کہ شاید صبح صادق ہو چکی ہو اسلئے رات رہنے کا فتوی دیا جائے گا ، اور رات میں کھا یا تو روزہ ہو گیا ۔
ترجمہ: ( ٩٨٤) اور اگر ظاہر ہوا کہ فجر طلوع ہو چکی تھی تو اس پر کفارہ نہیں ہے ۔
ترجمہ: ١ اس لئے کہ اس نے اپنے کام کو اصل پر مبنی کیا ہے اس لئے جان کر روزہ توڑنا متحقق نہیں ہوا ۔
تشریح : صبح صادق ہو نے میں شک تھا اس لئے سحری کھا لی بعد میں معلوم ہوا کہ اس وقت صبح صادق ہو چکی تھی تو اس پر صرف قضاء ہے ، کفارہ نہیں ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس نے جان کر روزہ نہیں توڑا ہے ، کیونکہ پہلے سے رات چل رہی تھی اس لئے اپنی سحری کی بنیاد رات پر رکھی جو اصل ہے اس لئے جان کر روزہ توڑنے والا قرار نہیں دیا جائے گا ، اور کفارہ جان کر روزہ توڑنے والے