٢ وعن ابی حنیفة اذا کان فی موضع لایستبین الفجراوکانت اللیلة مقمرة اومتغیمة او کان ببصرہ علة وہو یشک لایأکل ولو اکل فقد اساء لقولہ علیہ السلام دع ما یریبک الیٰ ما لا یریبک
گا اس لئے روزہ ہو جائیگا
وجہ : (١) اس آیت کے اشارے میں ہے کہ سفیدی ظاہر ہو نے کا یقین ہو جائے تب تب تک کھا سکتا ہے ، اور یہاں صبح صادق ہو نے کا صرف گمان ہے اس لئے کھانے سے روزہ صحیح ہو جائے گا ، آیت یہ ہے ۔ و کلوا و اشربوا حتیٰ یتبین لکم الخیط الابیض من الخیط الاسود من الفجر ۔( آیت ١٨٧، سورة البقرة٢ ) اس آیت میں تبین ، تفعل کا صیغہ ہے جسکا مطلب یہ ہے کہ صبح ہو نے کا یقین ہو تب تک کھا سکتاہے (٢) اس حدیث میں بھی اس کا اشارہ ہے ۔ سمرة بن جندب یخطب ویقول قال رسول اللہ ۖ لا یمنعن من سحورکم اذان بلال و لا بیاض الافق الذی ھٰکذا حتی یستطیر ۔( ابو داود شریف ، باب وقت السحور ، ص ٣٤١، نمبر ٢٣٤٦) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ پھیلی ہوئی سفیدی سے پہلے پہلے تک کھا پی سکتا ہے ۔ (٣) جاء رجل الی ابن عباس یسألہ عن السحور فقال لہ رجل من جلسائہ : کل حتی لا تشک فقال لہ ابن عباس : ان ھذا لایقول شیئا کل ما شککت حتی لا تشک ۔ ( مصنف ابن ابی شیبة ، باب فی الرجل یشک فی الفجر طلع ام لا ، ج ثانی ، ص ٢٨٨، نمبر ٩٠٥٧) اس اثر میں ہے کہ صبح کا یقین ہو نے تک کھا سکتا ہے
ترجمہ: ٢ امام ابو حنیفہ کی ایک روایت یہ ہے کہ آدمی ایسی جگہ پر ہو کہ فجر ظاہر نہ ہو تی ہو، یا رات چاندنی ہو ،یا بادل والی ہو،یا نگاہ میں کوئی بیماری ہو اور اس کو فجر طلوع ہو نے میں شک ہے تو نہ کھائے اور اگر کھا لیا تو اچھا نہیں کیا ، حضور علیہ السلام کے قول کی وجہ سے شک کو چھوڑ کر یقین پر عمل کرو ۔
تشریح : امام ابو حنیفہ کی ایک روایت امام حسن سے یہ ہے کہ غیر معتدل ملک جہاں ہر وقت بادل یا کہر رہتا ہے اور فجر کا پتہ نہیں چلتا ، یا چاندنی رات ہے جس میں صبح صادق ہو نے کا پتہ نہیں چلتا ، یا رات میں بادل ہے جسکی وجہ سے فجرکا پتہ نہیں چلتا ، یا بینائی کمزور ہے جس کی وجہ سے فجر کاپتہ نہیں چل رہا ہے اور گھڑی وغیرہ بھی نہیں ہے جس سے فجر کا صحیح علم ہوجسکی وجہ سے شک ہے کہ فجر طلوع ہوچکی ہے یا نہیں تو اس کو نہیں کھانا چاہئے ۔اگر کھا یا تو برا کیا ۔
وجہ : (١) اس کی وجہ یہ ہے کہ حدیث میں ہے کہ کسی بارے میں شک ہو تو اس کو چھوڑ کر یقین کی طرف جا نا چاہئے ، صاحب ھدایہ کی حدیث یہ ہے ۔ قلت للحسن بن علی ما حفظت من رسول اللہ ۖ قال حفظت من رسول اللہ ۖ : دع ما یریبک الی ما لا یریبک فان الصدق اطما نینة و ان الکذب ریبة ۔( ترمذی شریف ، باب حدیث اعقلھا و توکل ، ص ٥٧٢، نمبر ٢٥١٨ نسائی شریف ، باب الحث علی ترک الشبھات ،ص ٧٧٢، نمبر ٥٧١٤) اس حدیث میں ہے کہ شک کی