Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 3

135 - 689
(٩٨٣) والسواک الا انہ اذا شک فی الفجر  ومعناہ تساوی الظنین الا فضل ان یدع الاکل تحرزا)
 ١ عن المحرم ولا یجب علیہ ذٰلک ولو اکل فصومہ تام لان الاصل ہواللیل 

ص ٢٧٩، نمبر ٨٩٥٧ مصنف عبد الرزاق ، باب تأخیر السحور، ص ١٧٨ نمبر ٧٦٤٥) اس اثر میں ہے کہ سحری میں تاخیر کر نا نبیوں کے اخلاق میں سے ہے 
وجہ :  (١) تاخیر سے سحری کر نے کی دلیل یہ حدیث ہے ۔قال دخلنا علی عائشة فقلنا یا أم المؤمنین ان فینا رجلین من أصحاب النبی  ۖ أما أحدھما فیعجل الافطار و یؤخر السحور و أما الآخر فیؤخر الافطار و یعجل السحور فقالت من ھذا الذی یعجل الافطار و یؤخر السحور قلنا ابن مسعود قالت کذالک کان یفعل رسول اللہ  ۖ ۔ ( سنن بیہقی ، باب ما یستحب من تعجیل الفطر و تأخیر السحور، ج رابع ، ص ٤٤٠، نمبر ٨١٢٢)  اس حدیث میں ہے کہ سحری کو تاخیر سے کر نا بہتر ہے ، لیکن اتنی تاخیر نہ کرے کہ صبح صادق ہو جائے ۔(٢) اس حدیث میں بھی ہے کہ پچاس آیت  پڑھنے کی مقدار سے پہلے پہلے حضور ۖسحری  فرماتے تھے، حدیث یہ ہے ۔ عن زید بن ثابت  قال تسحرنا مع النبی  ۖ ثم قام الی الصلوة قلت: کم کان بین الآذان و السحور ؟ قال قدر خمسین آیة ۔ ( بخاری شریف ، باب قدر کم بین السحور و صلوة الفجر ؟ ، ص٣٠٨، نمبر ١٩٢١ مسلم شریف ، باب فضل السحور و تأکید استحبابہ ،ص ٤٤٧، نمبر٢٥٥٢١٠٩٧ ) ) اس حدیث میں ہے کہ حضور ۖ تاخیر کے ساتھ سحری کرتے تھے ۔(٣)عن عائشة  أن بلالا کان یؤذن بلیل فقال رسول اللہ  ۖ : کلوا و اشربوا حتی یؤذن ابن ام مکتوم فانہ لا یؤذن حتی یطلع الفجر قال القاسم و لم یکن بین اذانھما الا أن یرقی ٰ ذا و ینزل ذا ۔ ( بخاری شریف ، باب قول النبی  ۖ لایمنعنکم من سحورکم اذان بلال ، ص ٣٠٨، نمبر ١٩١٨ مسلم شریف ، باب بیان ان الدخول فی الصوم یحصل بطلوع الفجر ، الخ ، ص ٤٤٥، نمبر ١٠٩٢ ٢٥٣٨) اس حدیث میں ہے کہ فجر طلوع ہو نے تک سحری کر سکتا ہے ۔  
ترجمہ:  (٩٨٣) مگر یہ کہ جب فجر میں شک ہو ۔
 ترجمہ:  ١  مطلب یہ ہے کہ دو نوں گمان برابر ہوں تو افضل یہ ہے کہ کھا نا چھوڑ دے حرام سے بچنے کے لئے لیکن یہ واجب نہیں ہے اور اگر کھا لیا تو تو روزہ مکمل ہو جائے گا اس لئے کہ اصل تو رات ہی ہے ۔ 
تشریح :  اگر غالب گمان ہو کہ فجر طلوع نہیں ہوئی ہے تو سحری کھا سکتا ہے ، اور اگر غالب گمان ہو کہ فجر طلوع ہو چکی ہے تب تو نہ کھائے ، لیکن اگر دو نوں جانب برابر گمان ہے تواحتیاط کا تقاضا ہے کہ نہ کھائے تاکہ کہیںایسا نہ ہو کہ فجر طلوع ہو چکی ہو اور کھا لیا تو حرام میں پڑے گا ، لیکن اگر کھا لیا تو روزہ ہو جائے گا ، کیونکہ ابھی رات چل رہی ہے تو صبح کے یقین کے بغیر اس کو رات ہی سمجھا جائے 

Flag Counter