Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 3

134 - 689
 ٢ والمراد بالفجر الفجر الثانی وقد بیناہ فی الصلوٰة(٩٨٢)  ثم التسحر مستحب)١ لقولہںتسحروا فان فی السحور برکة ٢والمستحب تاخیرہ لقولہ ں ثلٰث من اخلاق المرسلین تعجیل الافطار وتاخیر السحور 

کھانے میںہم گناہ کی طرف مائل نہیں ہوئے ، اس لئے اس کے بدلے میں ایک دن کی قضاء کر لینا آسان ہے ۔ اثر یہ ہے ۔  فقال عمر ... من کان افطر فان قضاء یوم یسیر۔   (مصنف عبد الرزاق ، باب الافطار فی یوم مغیم ج رابع ص ١٣٨ نمبر٧٤٢٣ سنن بیہقی ، باب من أکل و ھو یری أن الشمس قد غربت ثم بان أنھا لم تغرب ، ج رابع ، ص ٣٦٧، نمبر ٨٠١٣) اس اثر سے معلوم ہوا کہ ایک دن کی قضا کرنا آسان ہے اور کفارہ لازم نہیں ہوگا۔اور یہ بھی ہے کہ اس دن کھانے سے رکے رہیں (٥) دوسرے اثر میں ہے ۔فقال عمر ؟ فو اللہ ما تجنفنا الاثم و فی حدیث عمر الآخر أمر بقضائہ    (مصنف عبد الرزاق ، باب الافطار فی یوم مغیم ج رابع ص ١٣٨ نمبر٧٤٢٥ سنن بیہقی ، باب من أکل و ھو یری أن الشمس قد غربت ثم بان أنھا لم تغرب ، ج رابع ، ص ٣٦٨، نمبر ٨٠١٦) صاحب ھدایہ کا اثر ان دو نوں اثروں کا مجموعہ ہے ۔ 
ترجمہ:  ٢  اور فجر سے مراد فجر ثانی یعنی صبح صادق ہے ، اس بات کو کتاب الصلوة ، باب مواقیت الصلوة میں بیان کیا ہے 
تشریح :  متن میں جو آیا کہ فجر طلوع ہو گیا اس فجر سے صبح صادق مراد ہے صبح کاذب مراد نہیں ہے اسی کو فجر ثانی کہتے ہیں ، اس کی پوری بحث کتاب الصلوة ، باب مواقیت الصلوة میں گزر چکی ہے ۔  
ترجمہ:  (٩٨٢) پھر سحری کر نا مستحب ہے ۔ 
ترجمہ:   ١  حضور علیہ السلام کے قول کی وجہ سے کہ سحری کرو اس لئے کہ سحری میں برکت ہے ۔
تشریح :  سحری کھائے بغیر روزہ رکھے گا تو روزہ ہو جائے گا لیکن سحری کھائے گا تو اچھا ہے تاکہ روزہ پر قوت ہو سکے ، چنانچہ حضور ۖ نے فر ما یا کہ سحری کھاؤ اس لئے کہ سحری کھانے میں برکت ہے ، حدیث یہ ہے ۔سمعت انس بن مالک  قال قال النبی  ۖ تسحروا فان فی السحور برکة ۔( بخاری شریف ، باب برکة السحور من غیر ایجاب ، ص ٣٠٩، نمبر ١٩٢٣ مسلم شریف ، باب فضل السحور و تأکید استحبابہ ،ص ٤٤٧، نمبر ٢٥٤٩١٠٩٥ ) اس حدیث میں ہے کہ سحری کرو اس میں بر کت ہے ۔
ترجمہ:  ٢  اور مستحب یہ ہے کہ سحری کو تاخیر سے کرے ، حضور علیہ السلام کے قول کی وجہ سے کہ تین باتیں رسولوں کے اخلاق میں سے ہیں افطار کو جلدی کر نا ، اور سحری کو تاخیر سے کر نا اور مسواک کر نا۔ 
تشریح:  صاحب ھدایہ کا اثر یہ ہے ۔ (١)عن ابی درداء قال : من أخلاق النبیین :التبکیر فی الافطار و الابلاغ فی السحور و وضع الیمین علی الشمال فی الصلوة ۔ ( مصنف ابن ابی شیبة ، باب فی تعجیل الافطار و ما ذکر فیہ ، ج ثانی ، 

Flag Counter