(٩٨٠) وعلیہ القضاء ١ لانہ حق مضمون بالمثل کمافی المریض والمسافر (٩٨١)ولا کفارة علیہ)
١ لان الجناےة قاصرة لعدم القصد وفیہ قال عمر ما تجانفنا لاثمٍ قضائُ یومٍ علینا یسیر
لھشام فامروا بالقضاء ؟قال بد من قضائ۔ (بخاری شریف ، باب اذا افطر فی رمضان ثم طلعت الشمس ص ٢٦٣ نمبر ١٩٥٩ ابو داؤد شریف ،الفطر قبل غروب الشمس ص ٣٢٩ نمبر ٢٣٥٩) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ سورج غروب ہونے سے پہلے افطار کر لیا تو اس دن کی قضا کرے گا۔البتہ بھول سے کیا ہے اس لئے کفارہ لازم نہیں ہوگا اور اسی پر صبح صادق طلوع ہونے کے بعد سحری کرنے کے مسئلہ کو قیاس کرلیں(٢)اثر میں ہے فقال عمر ... من کان افطر فان قضاء یوم یسیر۔۔۔۔ الا انہ قال : قال عمرأتموا یومکم ھذا ثم اقضوا یو ما (مصنف عبد الرزاق ، باب الافطار فی یوم مغیم ج رابع ص ١٣٨ نمبر٧٤٢٣ نمبر ٧٤٢٤ سنن بیہقی ، باب من أکل و ھو یری أن الشمس قد غربت ثم بان أنھا لم تغرب ، ج رابع ، ص ٣٦٧، نمبر ٨٠١٣) اس اثر سے معلوم ہوا کہ ایک دن کی قضا کرنا آسان ہے اور کفارہ لازم نہیں ہوگا۔اور یہ بھی ہے کہ اس دن کھانے سے رکے رہیں ۔(٣) اور دن کے باقی حصے میں نہ کھائے اس کے لئے یہ اثر ہے ۔عن ابراہیم انہ کان یقول فی مسافر یقدم مفطرا او حائض تطھر من آخر یومھا قال : لا یأکلان حتی یمسیان ۔ ( مصنف عبد الرزاق ، باب المسافر یقدم فی بعض النھار و الحائض تطھر فی بعضہ ، ج رابع ، ص ١٣٢ ، نمبر ٧٣٨٤) اس اثر میں ہے کہ حائضہ اور مسافر باقی دن کھانے سے رکے رہیں ۔اسی پر قیاس کر کے روزہ توڑنے والا بھی دن کے باقی حصے میں نہ کھا ئے
ترجمہ: (٩٨٠) اور اس پر قضاء ہے ۔
ترجمہ: ١ کیونکہ یہ مضمون بالمثل حق ہے ، جیسا کہ مریض اور مسافرمیں ہو تا ہے ۔
تشریح : سورج غروب ہو نے سے پہلے افطار کر لیا ، یا صبح صادق ہو نے کے بعد کھا لیا تو روزہ نہیں ہوا اس لئے اس کے مثل کے ضمان میں روزہ قضاء کرے ، جیسے مریض اور مسافر روزہ نہیں رکھ سکتا ہے تو اس کے بدلے میں روزہ رکھے ، اسی طرح یہاں بھی روزہ نہیں ہوا تو اس کے بدلے میں روزہ رکھے ۔
ترجمہ: (٩٨١) اور اس پر کفارہ نہیں ہے ۔
ترجمہ: ١ اس لئے کہ اس میں جرم کم ہے اس لئے اس نے ارادے سے نہیں توڑا ۔اور اس بارے میںحضرت عمر نے فر ما یا کہ ہم گناہ کی طرف مائل نہیں ہوئے ہم پر ایک دن کی قضاء کر نا آسان ہے ۔
تشریح : اس پر کفارہ نہیں ہے ، اس کی ایک وجہ تو یہ بیان کی کہ بھول سے روزہ توڑا ہے اس کو معلوم ہی نہیں تھا کہ سورج ابھی غروب نہیں ہوا ہے ، یا صبح صادق ہو گئی ہے اس لئے اس پر کفارہ نہیں ہے۔ اور دوسری وجہ یہ بیان کی کہ حضرت عمر نے فر مایا کہ اس