٣ بخلاف الحائض والنفساء والمریض والمسافرحیث لایجب علیہم حال قیام ہٰذہ الاعذارلتحقق المانع عن التشبہ حسب تحققہ عن الصوم قال (٩٧٩) واذا تسحر وہو یظُن ان الفجر لم یطلع فاذا ہو قد طَلَع او افطر وہو یری ان الشمس قد غربت فاذا ہی لم تغرب امسک بقےة) ١ یومہ قضائً لحق الوقت بالقدر الممکن او نفیا للتہمة
عظمت والا ہے یہی وجہ ہے کہ اس میں جان کر روزہ توڑ دے تو کفارہ لازم ہو جا تا ہے ، اس عظمت کے احترام کے لئے دن کے باقی حصوں میں رکنا لازم ہو گا ۔
ترجمہ: ٣ بخلاف حائضہ ، نفساء ،اور مریض اور مسافر کے کہ ان عذروں کے ہو تے ہوئے ان پرمفطرات صوم سے رکنا واجب نہیں ، کیونکہ روزہ دار کی مشابہت سے مانع مو جود ہے جیسے روزہ سے مانع موجود ہے ۔
تشریح : حائضہ ابھی پاک نہ ہو ئی ہو ابھی حیض کی حالت میں ہو ، نفساء نفاس کی حالت میں ہو ، مسافر ابھی سفر ہی میں ہو ، بیمار ابھی تندرست نہ ہوا ہو تو ان لو گوں پر روزہ داروں کا تشبہ اختیار کر کے کھانے پینے سے رکنا واجب نہیں ہے ، کیونکہ ان حالات میں ان لو گوں پر اصل روزہ واجب نہیں ہے ان کو سہولت دی ہے پس اگر عظمت اور تشبہ کی وجہ سے نہ کھائے پیئے تو حرج لازم ہو گا ، اس لئے ان لو گوں پر مفطرات صوم سے رکنا واجب نہیں ہے ، البتہ ان عذروں کے ختم ہو نے کے بعد رمضان کی عظمت یا تشبہ کے لئے رکنا مستحب ہے۔ اس کے لئے حدیث اوپر گزر گئی ۔
ترجمہ: (٩٧٩)اگر سحری کی اور گمان تھا کہ فجر طلوع نہیں ہوا ہے حالانکہ وہ طلوع ہو چکا تھا ، یا روزہ توڑا اور وہ سمجھتا تھا کہ سورج غروب ہو چکا ہے حالانکہ وہ غروب نہیں ہوا تھا تو دن کے باقی حصہ میں رکا رہے ۔
ترجمہ: ١ ممکن طور پر وقت کے حق کو پورا کر نے کے لئے اور تہمت کی نفی کے لئے ۔
تشریح: سحری کی یہ گمان کرتے ہوئے کہ ابھی صبح صادق نہیں ہواہے حالانکہ فجر طلوع ہو چکی تھی۔اسی طرح افطار کی یہ گمان کرتے ہوئے کہ آفتاب غروب ہو چکا ہے حالانکہ ابھی آفتاب غروب نہیں ہوا تھا تو چونکہ دن میں کھانا کھایا ہے اس لئے روزہ تو نہیں ہوا۔لیکن چونکہ بھول کر کھانا کھایا ہے اس لئے صرف قضا کرنا ہوگا کفارہ لازم نہیں ہوگا۔ کیونکہ بھول سے کفارہ ساقط ہو جاتا ہے۔ کھانے کے با وجود بھی دن کے باقی حصے میں مفطرات صوم سے اس لئے رکارہے اوردو بارہ نہ کھائے تاکہ رمضان کی عظمت اور احترام باقی رہے۔ اور دوسری وجہ یہ ہے کہ اگر دن میں کھائے گا تو لوگ کہیں گے یہ دن میں روزہ نہیں رکھتا اور فاسق فاجر شمار کریں گے ، اس تہمت کو دور کر نے کے لئے بھی نہ کھائے ۔
وجہ: (١) عن اسماء بنت ابی بکر قالت افطرنا علی عھد النبی ۖ فی یوم غیم ثم طلعت الشمس قیل