١ وقال الشافعی لایجب الامساک وعلی ہٰذا الخلاف کل من صار اہلاً للزوم ولم یکن کذالک فی اول الیوم ہو یقول التشبہ خلف فلا یجب الاعلیٰ من یتحقق الاصل فی حقہ کالمفطر متعمدا
٢ او مخطئا ولنا انہ وجب قضاء لحق الوقت لاخلفالانہ وقت معظم
کھانا نہ کھائے۔(٢) اثر میں ہے۔ عن ابراہیم انہ کان یقول فی مسافر یقدم مفطرا او حائض تطھر من آخر یومھا قال : لا یأکلان حتی یمسیان ۔ ( مصنف عبد الرزاق ، باب المسافر یقدم فی بعض النھار و الحائض تطھر فی بعضہ ، ج رابع ، ص ١٣٢ ، نمبر ٧٣٨٤ مصنف ابن ابی شیبة ،باب فی المرأة تحیض فی رمضان أول النھار ، ج ثانی ، ص ٣١٠، نمبر ٩٣٤٠) اس اثر میں بھی ہے کہ حائضہ اور مسافر باقی دن کھانے سے رکے رہیں ۔
ترجمہ: ١ امام شافعی نے فر ما یا کہ ان پر مفطرات سے رکنا واجب نہیں ، اور اسی اختلاف پر ہیں وہ لوگ جو درمیان دن میں روزے لازم ہو نے کے اہل ہوئے حالانکہ دن کے شروع حصے میں روزہ لازم ہو نے کے اہل نہیں تھے ۔ وہ دلیل دیتے ہیں کہ روزہ داروں کے ساتھ تشبہ اختیار کر نا خلیفہ ہے اس لئے انہیں پر رکنا لازم ہو گا جن کے حق میں اصل متحقق ہے ، جیسے جان کر کھا لینے والا یا بھول کر کھا لینا والا ۔
تشریح : امام شافعی آٹھ قسموں میں سے صرف دو قسم کے لوگوں پر باقی دنوں میں مفطرات صوم سے رکنا واجب کہتے ہیں ]١[ ایک جو روزہ رکھے ہوا تھا اور جان کر کھا لیا تو دن کے باقی حصوں میں اس پر کھانے پینے سے رکنا واجب ہے ، اسی طرح روزہ دار تھا اور بھول کر کھا لیا تو دن کے باقی حصوں میں مفطرات صوم سے رکنا واجب ہے ، انکے علاوہ پر رکنا واجب نہیں ۔
وجہ : انکی دلیل یہ ہے کہ دن کے باقی حصے میں کھانے پینے سے رکنا اس لئے ہے تاکہ اور روزہ داروں کے ساتھ تشبہ ہو جائے ، اور روزہ داروں کے ساتھ تشبہ اختیار کر نا اصل روزے کا خلیفہ ہے تو جن کے اوپر اصل روزہ فرض ہے انہیں پر اس کا خلیفہ بھی واجب ہو گا ، جان کر کھانے والے اور بھول کر کھانے والے پر اس دن اصل روزہ فرض ہے ، اس لئے روزہ ٹوٹ گیا تو مفطرات صوم سے رک کر تشبہ اختیار کرے ، اور حائضہ ، نفساء دن میں پاک ہوئی تو اس دن اصل روزہ رکھنے کے قابل نہیں ہے تو اس کا خلیفہ یعنی تشبہ اختیار کر نا بھی واجب نہیں
لغت : امساک : کھانے پینے سے رکنا ۔ اھلا للزوم : روزہ لازم ہو نے کا اہل ہو۔ مخطئا : بھول کر روزہ توڑا ہو۔
ترجمہ: ٢ ہماری دلیل یہ ہے کہ رکنا وقت کے حق کے ادا کر نے کے لئے واجب ہوا ہے اس لئے کہ وقت عظمت والا ہے ۔
تشریح : یہ امام شافعی کو جواب ہے ، انہوں نے فر ما یا تھا کہ روزہ داروں کے ساتھ تشبہ اختیار کر نا یہ اصل روزے کا خلیفہ ہے ، اس لئے جس پر اصل لازم ہو گا اسی پر خلیفہ لازم ہو گا ، اس کا جواب دیا جا رہا ہے کہ یہ اصل روزے کا خلیفہ نہیں ہے بلکہ رمضان کا مہینہ