Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 3

130 - 689
١  بخلاف الصلوٰة لانہا تحرج فی قضائہا وقد مر فی الصلٰوة (٩٧٨) واذا قدم المسافر او طہرت الحائض فی بعض النہار امسکابقےة یومہما)

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ روزے کی قضا کرنے کا حکم دیا جائے گا اور نماز قضا کرنے کا حکم نہیں دیا جائے گا۔(٣) نماز بہت ہو جاتی ہے اس لئے اسکی قضاء میں حرج ہے اور روزہ گنے چنے دن ہیں اس لئے اس کی قضاء کر نے میں حرج نہیں ہے اس لئے روزے کی قضاء کرے ۔ 
ترجمہ:   ١  بخلاف نماز کے اس لئے کہ حرج ہو گا اسکی قضاء کر نے میں ، اور پوری بحث کتاب الصلوة ، باب الحیض میں گزر گئی ۔ 
تشریح :  نماز حیض کے دس دن میں پچاس ہو جائے گی اس لئے اس کی قضاء کروانے میں عورتوں پر حرج ہو گا اس لئے اسکی قضاء کر نے کا حکم نہیں دیا اور روزہ صرف دس دن کا ہو گا اس لئے اس کو قضاء کر نے کا حکم دیا گیا اس میں کوئی حرج نہیں ہے ، اسی طرح نفساء عورت کی نماز چالیس دن میں دو سو ہو جائے گی اس لئے اسکی قضاء کر وانے میں حرج ہے اور روزہ صرف ایک ماہ کا ہو گا اس لئے اسکی قضاء کر نے میں کوئی حرج نہیں ہے اس لئے اسکی قضاء کا حکم دیا گیا ، یوں بھی عورتیں نماز پڑھنے میں سست ہو تیں ہیں لیکن روزہ خوشی رکھ لیتیں ہیں اس لئے روزے کی قضاء کر نے کا حکم دیا گیا ۔ 
ترجمہ:  (٩٧٨) مسافر گھر آئے یا حائضہ عورت پاک ہو جائے دن کے بعض حصہ میں تو دونوں باقی دن کھانے پینے سے رک جائیں۔  
تشریح:  مثلا حائضہ عورت دوپہر کو پاک ہوئی یا مسافر دوپہر کو گھر آیا تو اب دوپہر سے شام تک رمضان کے احترام میں کھانا پینا نہیں کھانا چاہئے۔ تاکہ رمضان کا احترام باقی رہے۔چونکہ دن کے شروع حصے میں روزہ کا اہل نہیں ہے اس لئے روزہ تو نہیں رکھ سکتی البتہ جب حائضہ پاک ہو کر اہل ہوئی تو اس وقت سے کھانا پینا نہیں کھائے گی۔اسی طرح مسافر مثلا دو پہر کو گھر پہونچا تو اس وقت سے شام تک کھا نا نہ کھائے ۔ یہ آٹھ قسم کے لوگ ہیں جن کے لئے ہے کہ وہ دن کے باقی حصے میں مفطرات صوم سے رکے رہیں ]١[مسافر گھر آئے ]٢[حائضہ پاک ہو جائے  ]٣[ نفساء پاک ہو جائے  ]٤[ کافر مسلمان ہوا ]٥[ بچہ بالغ ہوا ]٦[مریض تندرست ہوا] ٧[روزہ دار تھا جان کر کھا لیا ]٨[روزہ دار تھا بھول کر کھا لیا ۔ تو ان لو گوں کو چاہئے کہ دن کے باقی حصوں میں مفطرات صوم سے رکے رہیں ۔ 
 وجہ:  (١)  عن سلمة بن اکوع  قال امر النبی ۖ رجلا من اسلم ان اذن فی الناس ان من کان اکل فلیصم بقیة یومہ ومن لم یکن اکل فلیصم فان الیوم یوم عاشوراء ۔ (بخاری شریف ، باب صیام یوم عاشوراء ص ٢٦٩ نمبر ٢٠٠٧) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ایسے لوگ جو درمیان دن میں روزے کے اہل ہوئے ہوں وہ روزے کے احترام میں باقی دن 

Flag Counter