التحصیل فصار کغاصب الغاصب ٤ ولابی حنیفة ان الکفارة تعلّقت بالافساد وہذا امتناع اذ لا صوم الا بالنےة (٩٧٧) واذا حاضت المرأة او نفست افطرت وقضت)
کے امکان کو فوت کر دیا تو ایسا ہو گیا کہ غاصب سے بھی کسی نے غصب کر لیا ۔
تشریح : صاحبین فر ما تے ہیں کہ زوال سے پہلے پہلے کھا یا تو کفارہ لازم ہو گا ، اس کی وجہ یہ ہے کہ زوال سے پہلے پہلے اس بات کا امکان تھا کہ وہ روزے کی نیت کر لیتا اور روزہ رکھ لیتا ، لیکن کھا لیا تو روزہ رکھنے کے امکان کو فوت کر دیا اس لئے اگر چہ روزہ رکھ کر نہیں توڑا ہے لیکن کھا کر روزہ رکھنے کے امکان کو ختم کیا تو اس امکان کے ختم کر نے سے بھی کفارہ لازم ہو جا ئے گا۔ اس کی ایک مثال دیتے ہیں کہ مثلا زید نے خالد کی تلوار غصب کی تو خالد زید سے تلوار لے سکتا تھا اور وہ نہ ملے تو اس کا تاوان زید سے لے سکتا تھا ، اس دوران نصیر نے زید سے تلوار غصب کی اور اس کو ضائع کر دیا ، تو خالد کو یہ حق ہے کہ زید سے تا وان لینے کے بجائے نصیر سے تاوان لے لے ، کیونکہ نصیر نے تلوار ضائع کر کے واپس کر نے کا امکان ختم کر دیا تو چونکہ اس نے واپس کر نے کا امکان ختم کیا اس لئے اس سے بھی خالد تاوان لے سکتا ہے ، اسی طرح زوال سے پہلے کھا کر اس بات کا امکان ختم کر دیا کہ اب وہ روزہ رکھے گا اس لئے وہ روزے کا کفارہ دے ۔۔ غاصب سے غصب کی صورت یہی ہے
ترجمہ: ٤ امام ابو حنیفہ کی دلیل یہ ہے کہ کفارہ کا تعلق توڑنے کے ساتھ ہے اور یہاں تو روزہ رکھنے سے رکنا ہے ، اس لئے کہ روزہ بغیر نیت کے نہیں ہو تا
تشریح : کفارہ لازم نہ ہو نے کے لئے امام ابو حنیفہ کی دلیل یہ ہے کہ روزہ نیت کر کے رکھے اور پھر اس کو توڑ دے تب اس پر کفارہ ہے یہاں نیت کر کے روزہ رکھا ہی نہیں ہے ، یہاں تو صرف روزہ رکھنے سے رکنا ہے اس لئے اس پر کفارہ نہیں ہو گا ۔۔ افساد : روزہ رکھ کر توڑنا ۔
ترجمہ: (٩٧٧)اگر عورت حائضہ ہو جائے یا نفاس والی ہو جائے تو روزہ توڑ دے گی اور جب پاک ہوگی تو قضا کرے گی۔
وجہ: (١) حیض اور نفاس کی حالت میں عورت روزے کے قابل نہیں رہتی ہے اس لئے روزہ رکھی ہوئی ہو تب بھی روزہ توڑ دے گی اور بعد میں قضا کرے گی۔حدیث میں ہے ۔عن ابی سعید قال قال النبی ۖ الیس اذا حاضت لم تصل ولم تصم؟ فذلک من نقصان دینھا ( بخاری شریف ، باب الحائض تترک الصوم والصلوة ص ٢٦١ نمبر ١٩٥١) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حائضہ عورت نہ روزہ رکھے گی اور نہ نماز پڑھے گی۔(٢) اور قضا کرنے کی دلیل یہ حدیث ہے ۔ عن عائشة قالت کنا نحیض عند رسول اللہ ۖ ثم نطھر فیأمرنا بقضاء الصیام ولا یأمرنا بقضاء الصلوة۔ (ترمذی شریف ، باب ماجاء فی قضاء الحائض الصیام دون الصلوة ص ١٦٣ نمبر ٧٨٧ ابن ماجة شریف ، باب ما جاء فی قضاء رمضان ، ص ٢٣٩، نمبر ١٦٧٠)