بجہة العبادة ولاعبادة الابالنےة ٣ وفی ہبة النصاب وجد نےة القربة علیٰ ما مر فی الزکوٰة(٩٧٦) ومن اصبح غَیرنا وٍ للصوم فاکل لا کفارة) ١ علیہ عند ابی حنیفة ٢ وقال زفر علیہ الکفارة لانہ یتادی بغیر النےة عندہ٣ وقال ابو یوسف ومحمد اذا اکل قبل الزوال تجب الکفارة لانہ فوت امکان
لئے روزہ ادا نہیں ہو گا
تشریح : ہماری دلیل یہ ہے کہ صرف کھانے پینے سے رکنے سے عبادت نہیں ہو گی وہ تو عادت کے طور پر بھی ہو سکتا ہے ، عبادت تو روزے کی نیت کر نے کے بعد ہو گی اس لئے بغیر نیت کے روزہ نہیں ہوا ۔
ترجمہ : ٣ اور پورے نصاب کے ہبہ کر نے میں قربت کی نیت تو پائی گئی ، جیسے کہ کتاب الزکوة میں گزرا ۔
تشریح : یہ امام زفر کو جواب ہے ، انہوں نے فر ما یا تھا کہ ززکوة واجب ہو نے کے بعد تمام مال فقیر کو دے دے اور زکوة کی نیت نہ کرے تو بھی اس سے زکوة کی ادائیگی ہو جا تی ہے اسی طرح رمضان میں کھانے پینے سے رکا رہے تو نیت نہ بھی کرے اس سے روزہ ادا ہو جائے گا، اس کا جواب دیا جا رہا ہے کہ فقیر کو دینے میں بھی قربت کی نیت ہے ورنہ وہ کسی مالدار کو دے دیتا ، اور اصل قربت کی نیت پائی گئی تو اس کے تحت میں زکوة ادا ہو جائے گی ، اور یہاں تو اصل قربت اور اصل روزے کی نیت بھی نہیں ہے اس لئے روزہ کیسے ادا ہو گا ! اور جب روزہ ادا نہیں ہوا تو پورے رمضان کی قضاء کر نا ہو گی ۔
اصول :امام زفر کے یہاں رمضان کا روزہ بغیر نیت کے ادا ہو گا ۔امام ابو حنیفہ کے یہاں بغیر نیت کے ادا نہیں ہو گا ۔
ترجمہ: ( ٩٧٦) کوئی بغیر نیت کے صبح کی پھر کھا لیا تو اس پر کفارہ نہیں ہے ۔
ترجمہ: ١ امام ابو حنیفہ کے نزدیک ۔
تشریح : ایک آدمی مثلا رمضان میں دس بجے دن تک کھا نا پینا نہیں کھا یا لیکن روزے کی بھی نیت نہیں کی اس کے بعد جان بوجھ کر کھا نا کھا لیا تو امام ابو حنیفہ کے نزدیک اس پر صرف قضاء ہے روزہ توڑنے کا کفارہ نہیں ہے ۔
وجہ : اس کی وجہ یہ ہے کہ کفارہ لازم ہو تا ہے روزہ رکھ کر توڑنے کے بعد اور اس نے روزہ رکھنے کی نیت ہی نہیں کی تھی اس لئے روزہ ہی نہیں تھا اس لئے کفارہ لازم نہیں ہو گا البتہ رمضان کا روزہ نہیں رکھا اس لئے اس کی قضاء لازم ہو گی ۔
ترجمہ: ٢ امام زفر نے فر ما یا کہ اس پر کفارہ ہے اس لئے کہ انکے نزدیک بغیر نیت کے بھی روزہ ادا ہو جا تا ہے ۔
تشریح : ابھی اوپر گزرا کہ امام زفر کے نزدیک بغیرنیت کے بھی روزہ ادا ہو جا تا ہے ، اس لئے بغیر کھائے پیے رکا رہا تو روزہ ہو گیا ، اور روزہ ہو نے کے بعد جان کر بغیر کسی عذر کے روزہ توڑا تو کفارہ لازم ہو گا اس لئے امام زفر کے یہاں کفارہ لازم ہو گا ۔
ترجمہ: ٣ امام ابو یوسف اور امام محمد نے فر ما یا کہ اگر زوال سے پہلے کھا یا تو کفارہ واجب ہو گا اس لئے کہ روزہ حاصل کر نے