٤ وعن محمد انہ فرق بینہما لانہ اذا بلغ مجنونا التحق بالصبی فانعدم الخطاب بخلاف ما اذا بلغ عاقلا ثم جن وہذا مختار بعض المتاخرین (٩٧٥) ومن لم ینو فی رمضان کلہ لا صوما ولا فطرا فعلیہ قضاؤہ )١ وقال زفریتادی صوم رمضان بدون النےة فی حق الصحیح المقیم لان الامساک مستحق علیہ فعلی ایّ وجہ یؤدیہ یقع عنہ کما اذا وہب کل النصاب للفقیر ٢ ولنا ان المستحق الامساک
ترجمہ: ٤ امام محمد نے اصلی اور عارضی جنون میں فرق کیا ہے اس لئے کہ اگر مجنون ہو کر بالغ ہوا تو بچے کے ساتھ مل گیا تو اس پر خطاب ہی نہیں ہوا ، بخلاف جبکہ عقلمند ہو کر بالغ ہوا پھر مجنون ہوا ۔ یہ روایت بعض متأخرین کا پسندیدہ ہے ۔
تشریح : امام محمد نے فر ما یا کہ اگر جنون اصلی تھا یعنی بالغ ہو تے وقت بھی مجنون تھا تو وہ بچے کی طرح ہو گیا کہ افاقے سے پہلے وہ شریعت کا مخاطب ہی نہیں تھا اس لئے افاقے سے پہلے رمضان کا جو وقت اس پر گزرا اس کی قضاء اس پر نہیں ہو گی جس طرح بچے پر بالغ ہو نے سے پہلے کی قضاء نہیں ہے ۔ اور اگر جنون عارضی ہے ، یعنی بالغ ہو تے وقت وہ عقلمند تھا بعد میں مجنون ہوا ، اور رمضان کے کچھ حصے میں افاقہ ہو گیا تو پورے رمضان کی قضاء لازم ہو گی ۔ کیونکہ وہ بالغ ہو تے وقت شریعت کا مخاطب تھا ۔ بعض متأخرین نے امام محمد کی اس روایت کو پسند فر ما یا ہے ۔
ترجمہ: (٩٧٥) کسی نے پورے رمضان میں نہ روزے کی نیت کی اور نہ افطار کی نیت کی تو اس پر قضاء ہے ۔
تشریح : ایک آدمی پورے رمضان کے دنوں میں کھانے پینے اور جماع سے رکا رہا لیکن نہ روزہ رکھنے کی نیت کی اور نہ روزہ توڑنے کی نیت کی تو بغیر نیت کے روزہ نہیں ہو گا اس لئے سب روزوں کی قضاء لازم ہو گی ،
وجہ : کیونکہ چاہے وہ دن بھر مفطرات صوم سے رکارہے لیکن بغیر نیت کے قربت نہیں ہوگی اور نہ روزہ ہو گا ۔
ترجمہ: ١ امام زفر نے فر مایا کہ تندرست اور مقیم کے حق میں بغیر نیت کے بھی روزہ ادا ہو جائے گا اس لئے کہ مفطرات سے رکنا اس پر واجب ہے تو جس طریقے سے بھی رکے روزہ ہی واقع ہو گا ، جیسے کہ فقیر کوپورا نصاب ہبہ کر دے تو زکوة ادا ہو جاتی ہے ۔
تشریح : امام زفر فر ما تے ہیں کہ ایک مسلمان آدمی مقیم ہو اور تندرست بھی ہو تو تو اس پر مفطرات صوم سے رکنا اور روزہ رکھنا فرض ہے اس لئے چاہے بغیر نیت کے بھی رکا رہے گا تو روزہ ادا ہو جائے گا ، اور جب پورے رمضان کا روزہ ادا ہو گیا تو اب اسکی قضاء کر نے کی ضرورت نہیں ہے ، اس کی ایک مثال دیتے ہیں کہ ایک آدمی کے نصاب پر پورا سال گزر گیا اور زکوة واجب ہو گئی پس اس نے زکوة کی نیت کے بغیر کسی فقیر کو پورا مال ہبہ کر دیا تو اسی میں زکوة ادا ہو جائے گی، چاہے زکوة کی نیت نہ کی ہو ، اسی طرح یہاں بھی روزہ فرض ہے اس لئے اس کی نیت کئے بغیر بھی روزہ ادا ہو جائے گا ۔
ترجمہ: ٢ اور ہماری دلیل یہ ہے کہ مفطرات سے رکنا عبادت کے طور پر واجب ہے اور عبادت بغیر نیت کے نہیں ہو تی ] اس