Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 3

126 - 689
یجب علیہ الاداء لانعدام الاہلےة والقضاء یرتب علیہ وصارکا المستوعب  ٢ ولنا ان السبب قد وجد وہو الشہر والاہلےة بالذمة وفی الوجوب فائدة وہو صیرورتُہ مطلوبا علی وجہ لا یحْرج فی ادائہ بخلاف المستوعب لانہ یحرج فی الاداء فلا فائدة وتمامہ فی الخلافیات ٣ ثم لا فرق بین الاصلی والعارضی قیل ہٰذا فی ظاہر الرواےة 

اور قضاء ادا پر مرتب ہو تا ہے تو ایسا ہوا کہ پورا ہی رمضان جنونیت نے گھیر لیا ۔  
تشریح : امام زفر  اور امام شافعی  فر ما تے ہیں کہ مجنون جتنے دنوں تک ہوش میں رہا اتنے ہی دنوں کے رمضان کا روزہ واجب ہو گا اور جتنے دنوں جنونیت میں گزرا اتنے دنوں روزہ واجب نہیں ہو گا ۔انکی دلیل یہ ہے کہ جنونیت کی وجہ سے ان دنوں میںوہ روزے کا اہل ہی نہیں تھا اس لئے ادا بھی واجب نہیں ہوا اور قضاء ادا پر مرتب ہوتی ہے اس لئے قضاء بھی واجب نہیں ہو گی ۔انکی دلیل اوپر کی حدیث ہے ۔ 
ترجمہ:  ٢  ہماری دلیل یہ ہے کہ سبب پا یا گیا اور وہ مہینہ ہے اور اہلیت کا مطلب ہے کہ ذمہ میں واجب ہو ، اور واجب کر نے میں فائدہ یہ ہے کہ ایسے طریقے میں مطلوب ہو کہ اس کے ادا کر نے میں حرج نہ ہو ، بخلاف جبکہ پورا رمضان گھیرا ہوا ہو اس لئے کہ اس کے ادا کر نے میں حرج ہے اس لئے فائدہ نہیں ہے ۔ اور پوری بحث کتاب خلافیات میں ہے ۔
تشریح : ہماری دلیل یہ ہے کہ رمضان کا مہینہ جنونیت سے افاقے میں پا یا اس لئے واجب ہو نے کا سبب تو پا یا گیا اس لئے روزہ واجب کر دیا جائے ، اور روزہ رکھنے کی اہلیت بھی ہے جسکا فائدہ یہ ہے کہ کچھ روزے اس کے ذمے میں واجب کیا جائے جو بعد میں قضاء کرے گا ، اور تھوڑے روزے کی قضاء کر نے میں حرج بھی نہیں ہے ، اس کے بر خلاف پورے رمضان کے روزے قضاء کروانے میں حرج ہے کیونکہ اتنے روزے قضاء کر نا مشکل ہے ، اس لئے پورا مہینہ مجنون ہو اور پورا مہینہ واجب کریں تو حرج ہے اس لئے واجب نہ کریں اورکچھ دن افاقہ رہے اور روزہ ادا کر لے اور کچھ دن قضاء کر نا پڑے تو اس میں حرج نہیں ہے اس لئے واجب کیا جائے ۔ 
ترجمہ:  ٣  پھر عارضی جنونیت اور اصلی جنونیت میں کوئی فرق نہیں ہے ، بعض حضرات نے فر ما یا یہ ظاہر روایت ہے ۔
تشریح :  کوئی آدمی بالغ ہو نے تک مجنون نہیں تھا اور بالغ ہو نے کے بعد مجنون ہوا تو یہ عارضی مجنون ہے ۔ اور اگر بالغ ہو نے  سے پہلے مجنون تھا اور بالغ ہو تے وقت بھی مجنون رہا تو اس کو اصلی مجنون کہتے ہیں چاہے در میان میں افاقہ ہو جا تا ہو ۔  
ظاہر روایت یہ ہے کہ چاہے اصلی جنون ہو یا عارضی جنون ہو دو نوں صورتوں میں پورا رمضان جنون رہا تو ایک روزہ بھی لازم نہیں ہو گا ، اور ایک دن بھی رمضان میں افاقہ کا پا یا تو پورے رمضان کا روزہ لازم ہو گا ۔
 
Flag Counter