Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 3

125 - 689
٢ ولنا ان المُسْقِط ہو الحرج والاغماء لایستوعب الشہرعادةً فلا حرج  والجنون یستوعبہ فیتحقق الحرج (٩٧٤) وان افاق المجنون فی بعضہ قضیٰ ما مضیٰ)  ١ خلافا لزفر والشافعی ہما یقولان لم 

تشریح :  امام مالک  فر ما تے ہیں کہ پورا مہینہ بھی مجنون رہا تو اس پر پورے مہینے کا روزہ فرض رہے گا ، جس طرح پورا مہینہ بیہوش رہا تواس پر پورے مہینے کا روزہ فرض رہتا ہے ، وہ جنونیت کو بیہوشی پر قیاس کرتے ہیں ۔ 
ترجمہ:  ٢  اور ہماری دلیل یہ ہے کہ روزہ ساقط کر نے والی چیز حرج ہے اور بیہوشی عام طور پر ایک مہینہ تک نہیں ہو تی اس لئے اس میں کوئی حرج نہیں ہے اور جنون ایک مہینہ تک ہو جا تا ہے اس لئے حرج متحقق ہو گا ]اس لئے ایک مہینے کے جنون میں روزہ واجب نہیں [ 
تشریح : اس عبارت میں یہ فرق بیان کر رہے ہیں کہ بیہوشی پورا رمضان رہے پھر بھی پورے رمضان کا روزہ فرض رہتا ہے ، اور جنونیت پورا رمضان رہے تو ایک روزہ بھی فرض نہیں رہتا اس کی کیا وجہ ہے ؟  اس کی وجہ یہ بیان فر ما تے ہیں کہ روزے کے ساقط ہو نے کا اصل معیار حرج ہے ، کہ جہاں حرج ہو وہاں ساقط ہو گا اور جہاں حرج نہ ہو وہاں ساقط نہیں ہو گا ، اس معیار کے مطابق یہ دیکھتے ہیں کہ عموما بیہوشی پورا مہینہ نہیں رہتی ایک دو روز میں آدمی ہوش میں آجاتا ہے کیونکہ اس سے زیادہ بیہوش رہے گا اور مشین سے کھا نا پینا پیٹ میں نہیں دیا گیا تو آدمی مر جا تا ہے ، اس لئے شاذ و نادر ہی آدمی ایک ماہ تک بیہوش رہتا ہے اس لئے اس شاذ و نادر کا اعتبار نہیں کیا گیا ، اور کہا گیا کہ پورے  مہینے کی بیہوشی ہو پھر بھی پورے مہینے کا روزہ فرض ہو گا اور رمضان کے مہینے کو اس کے لئے سبب ما نا جائے گا ۔اور جنونیت پورے مہینے رہتی ہے اس لئے روزہ فرض کر نے میں حرج ہے اس لئے جنونیت پورا مہینہ رہے توایک روزہ بھی فرض نہیں ہو گا ۔ ۔اصل حدیث ہے جو پہلے گزر گئی ۔
ترجمہ:  (٩٧٤)اگر بعض رمضان میں مجنون کو افاقہ ہوا تو قضا کرے گا جو گزر گیا،]اور جو باقی ہے اس کا روزہ رکھے گا[  
تشریح:  مثلا گیارہ رمضان کو جنونیت سے افاقہ ہوا اور عقل آگئی تو بارہ رمضان سے روزے رکھے گا اور پچھلے گیارہ رمضان تک بعد میں قضا کرے گا ۔ 
وجہ: (١) اوپر گزرا آیت میں ہے کہ جس کو رمضان کا مہینہ ملا وہ روزہ رکھے ، جس کا مطلب یہ ہے کہ رمضان کا ایک دن بھی جنونیت سے افاقے میں گزرا تو یہ پورے رمضان کے فرض ہو نے کا سبب ہو گا اور پورے رمضان کا روزہ فرض ہو گا ، پس جو دن گزر گئے اس کی قضاء بعد میں کرے اور جو دن ابھی باقی ہے اس کا ابھی روزہ رکھے ۔ 
اصول : ایک دن بھی جنونیت سے افاقے میں گزرے تو وہ پورے رمضان کے فرض ہو نے کا سبب ہے ۔
ترجمہ:  ١  امام زفر اور امام شافعی اس کے خلاف ہیں۔وہ دونوں فر ما تے ہیں کہ اہلیت کے نہ ہو نے کی وجہ سے ادا واجب نہیں ہو 

Flag Counter