Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 3

123 - 689
٣وعندنا لا بد من النےة لکل یوم لانہا عبادات متفرقة لانہ یتخلل بین کل یومین ما لیس بزمان لہذہ العبادة بخلاف الاعتکاف(٩٧٢) ومن اغمی علیہ فی رمضان کلہ قضاہ)  ١  لانہ نوع مرض یضعف 

ترجمہ:  ٣  اور ہمارے نزدیک ہر دن کے لئے نیت کر نا ضروری ہے اس لئے کہ وہ  الگ الگ عبادت ہے اس لئے کہ ہر دو دن کے درمیان میں ایسا زمانہ ]یعنی رات [ آتا ہے جو اس عبادت کے لئے نہیں ہے ، بخلاف اعتکاف کے ]کہ رات دن اعتکاف کا زمانہ ہے [ 
تشریح :  ہمارے یہاں ہر دن کے روزے کے لئے الگ الگ نیت کر نی ہو گی ، اس کی وجہ یہ ہے کہ دو دنوں کے درمیان رات آتی ہے جس میںروزہ نہیں رکھا جا تا ہے ،اس سے معلوم ہوا کہ ہر دن الگ الگ عبادت ہے اس لئے ہر دن کے لئے الگ الگ نیت کر نی ہو گی ۔ اور جب آدمی پہلی رات کے بعد پورے رمضان تک بیہوش رہا تودوسرے دنوں میں نیت نہیں پائی گئی اس لئے باقی رمضان کا روزہ ادا نہیں ہو گا ۔
اور امام مالک کے قیاس کا جواب یہ ہے کہ اعتکاف رات میں بھی ہو تا ہے اور دن میں بھی ہو تا ہے اس لئے پورے دس دن کا اعتکاف ایک ہی عبادت ہو ئی اس لئے ایک ہی نیت کا فی ہے ۔
ترجمہ:  (٩٧٢) کسی کو پورا رمضان بیہوشی رہی تو پورے رمضان کی قضاء کرے گا ۔ 
ترجمہ:  ١  اس لئے کہ یہ ایک قسم کا مرض ہے جو قوت کو کمزور کر دیتا ہے لیکن عقل کو زائل نہیں کر تا اس لئے روزہ مؤخر کر نے کا عذر ہو گا ساقط کر نے کا عذر نہیں ہو گا ۔ 
تشریح :  رمضان کے پہلے ہی سے ایک آدمی بیہوش ہوا اور رمضان کے بعد تک بیہوش رہا تو پورے رمضان کی قضاء کرے گا ۔ الحجی : عقل ۔
وجہ :  ( ١) اس کی وجہ یہ ہے کہ رمضان کے پہلے سے بیہوش ہے اس لئے ایک دن کی بھی روزے کی نیت نہیں پائی گئی اس لئے پورے رمضان کی قضاء کرے گا ۔ (٢)  اور پورے رمضان بیہوش رہنے کے با وجود روزہ ساقط اس لئے نہیں ہو گا کہ بیہوشی میں نیند کی طرح عقل چھپ جاتی ہے تھوڑی کمزور ہو جاتی ہے ، عقل ختم نہیں ہو جا تی ، اور جب عقل پورے رمضان میں ہے تو پورے رمضان کا روزہ بھی فرض ہو گا ، اس لئے بیہوشی روزہ مؤخر کر نے کے لئے تو عذر ہو گی روزہ ساقط کر نے کے لئے عذر نہیں ہو گی ۔ (٣) ایک دن سے کم بیہوشی ہو تو نماز فرض رہتی ہے ساقط نہیں ہو تی اسی پر قیاس کر تے ہو ئے روزہ بھی ساقط نہیں ہو گا ۔ نماز فرض رہنے کے لئے یہ اثر ہے  ۔ قیل لعمران بن حصین : ان سمرة بن جندب یقول فی المغمی علیہ : یقضی مع کل صلوة مثلھا فقال عمران : لیس کما یقول ، یقضیھن جمیعا ۔ ( مصنف ابن ابی شیبة ، باب ما یعید المغمی علیہ من الصلوة ، ج ثانی ، ص ٧١ ، نمبر 

Flag Counter