Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 3

122 - 689
(٩٧١) وان اغمی علیہ اول لیلة منہ قضاہ کلہ غیر یوم تلک اللیلة) ١ لما قلنا  ٢ وقال مالک لا یقضی ما بعدہ لان صوم رمضان عندہ یتادی بنےة واحدة بمنزلة الاعتکاف

رمضان ج رابع ص ٣٩٦،نمبر٨١١٠) اس اثر سے معلوم ہوا کہ بیہوشی سے روزہ نہیں ٹوٹیگا۔ جیسے سونے سے روزہ نہیں ٹوٹتا ہے۔
نوٹ:  بیہوشی کے عالم میں لوگوں نے کچھ کھلایا پلایا تو مریض نے جان کر اپنے ارادہ سے نہیں کھایا ہے بلکہ گویا کہ بھول کر کھایا ہے اور بھول کر کھانے سے روزہ نہیں ٹوٹتا اس لئے بیہوشی کے عالم میں لوگوں کے کھلانے سے بھی روزہ نہیں ٹوٹے گا۔ اس دن کا روزہ ادا ہو جائے گا۔
ترجمہ:  (١ ٩٧) اگر رمضان کی پہلی رات میں بیہوش ہو گیا تو پورے رمضان کی قضاء کرے گا ، سوائے اس دن کے جس رات بیہوش ہوا ہے ۔
ترجمہ   ١  اس دلیل کی وجہ سے جو میں نے کہا ۔ 
تشریح :  یہ مسئلہ تین اصولوں پر ہے ، ]١[ ایک اصول یہ ہے کہ اگر پورے رمضان بھی بیہوش رہا تو پورے رمضان کی قضاء کر نا ہوگی ، کیونکہ عقل مو جود ہے صرف چھپ گئی ہے ۔ ]٢[ اور دوسرا اصول یہ ہے کہ جس دن یا رات میں نیت پائی گئی اس دن کا روزہ ادا  ہو گیا اور جس دن میں نیت نہیں پائی گئی اس دن کی قضاء لازم ہو گی ۔ ]٣[ اور تیسرا اصول یہ ہے کہ روزے کے لئے ہر دن الگ الگ نیت ضروری ہے کیونکہ ہر دن کے درمیان رات ہے جو روزے کا وقت نہیں ہے اس لئے ہر دن الگ الگ عبادت ہے اور ہر دن کے لئے الگ الگ نیت ضروری ہے مسئلے کی تشریح یہ ہے کہ رمضان کی پہلی شب کو بیہوش ہوا تو اس دن کی قضاء نہیں کرے گا کیونکہ مسلمان کی ظاہری حالت یہ ہے کہ اس نے روزے کی نیت کی ہو گی اس لئے اس دن کا روزہ ادا ہو گیا ، اور باقی پورے رمضان میں نیت نہیںہے اسلئے اس کی قضاء لازم ہو ئی ۔ 
ترجمہ:  ٢  اور امام مالک  نے فر ما یا کہ بعد کے روزوں کی بھی قضاء نہ کرے اس لئے کہ پورے رمضان کا روزہ انکے نزدیک ایک ہی نیت سے ادا ہو جا تا ہے ، جیسے کہ پورا اعتکاف ایک ہی نیت سے ادا ہو جا تا ہے ۔ 
تشریح : حضرت امام مالک  نے فر ما یا کہ رمضان کی پہلی رات کو بیہوش ہوا تو اس رات کو نیت پائی گئی اور یہ ایک ہی نیت پورے رمضان کے روزے ادا ہو نے کے لئے کا فی ہے اور پورا رمضان بیہوش رہا تو گو یا کہ اپنے ارادے سے کھا یا پیا بھی نہیں اس لئے پورے رمضان میں نیت کے ساتھ کھا نے پینے سے رکنا پا یا گیا اس لئے پورے رمضان کا روزہ ادا ہو جائے گا ، اس کو قضاء کر نے کی ضرورت نہیں ہے ۔ جیسے کہ دس دن کا اعتکاف کر نا ہو تو ہر دن نیت کر نا ضروری نہیں ایک ہی نیت کا فی ہے ، اسی طرح یہاں بھی ایک ہی نیت کا فی ہے ۔ 
 
Flag Counter