٢ الاانہ اذا افطر فی المسألتین لا تلزمہ الکفارة لقیام شبہة المبیح (٩٧٠) ومن اُغمی علیہ فی رمضان لم یقض الیوم الذی حدث فیہ الاغماء لوجود الصوم فیہ وہو الامساک المقرون بالنےة اذا لظاہر وجودہا منہ وقضی مابعدہ لانعدام النےة )
صام ۔ ( مصنف عبد الرزاق ، باب السفر فی شھر رمضان ، ج رابع ، ص ٢٠٨، نمبر ٧٧٩٦) اس اثر میں ہے کہ دن کے شروع حصے میں مقیم تھا تو سفر میں باقی دن میں بھی روزہ رکھے اور بعد میں چاہے توروزہ رکھے اور چاہے تو روزہ نہ رکھے ۔ البتہ پیاس کا خوف ہو تو روزہ توڑ سکتا ہے ۔
ترجمہ: ٢ تاہم اگر دو نوں مسئلوں میں روزہ توڑ دیا تو کفارہ لازم نہیںہو گا مباح کا شبہ قائم ہو نے کی وجہ سے ۔
تشریح : دونوں مسئلوں سے مراد یہ ہے کہ ۔گھر میں تھا اور سفر میں نکلا اور روزہ توڑ دیا تو سفر کی وجہ سے رخصت ہو نے کا شبہ ہے اس لئے روزہ توڑنے کی وجہ سے بھی صرف قضاء لازم ہو گی کفارہ لازم نہیں ہو گا ، اسی طرح سفر میں تھا اور زوال سے پہلے گھر آگیااور روزہ نہیں رکھا تو سفر کی رخصت کا شبہ ہے اس لئے کفارہ لازم نہیںہو گا کیونکہ شبہ کی وجہ سے کفارہ ساقط ہو جا تا ہے ۔
ترجمہ: (٩٧٠) اور جس پر رمضان میں بیہوشی طاری ہوئی تو اس دن کی قضا نہیں کرے گا جس دن بیہوشی پیدا ہوئی ہے۔ اس لئے کہ اس میں روزے کی نیت ہے اور وہ نیت کے ساتھ رکنا ہے ، اس لئے کہ ظاہر یہی ہے کہ اسکی نیت ہے ۔ اور اس دن کے بعد کی قضا کرے گا۔
تشریح : جنون میں عقل ختم ہو جا تی ہے اس لئے اس زمانے میں وہ شریعت کا مخاطب نہیں رہتا ، اور بیہوشی میںعقل مو جود رہتی ہے لیکن نیند کی طرح چھپ جا تی ہے اس لئے وہ شریعت کا مخاطب رہتا ہے اور اس پر روزہ فرض رہے گا ، اب جس دن بیہوش ہوا تو وہ مسلمان ہے اس لئے اس کی ظاہری حالت یہی ہے کہ اس نے روزے کی نیت کی ہو گی اس لئے نیت کے ساتھ کھانے پینے سے رکا رہا اس لئے اس دن کا روزہ ادا ہو جائے گا ، اور باقی دنوں میں نیت نہیں پائی گئی اس لئے اس دن کا روزہ نہیںہوا اس لئے باقی دنوں کی قضاء کر نا ہو گا ۔ ۔ اغماء : بیہوشی ۔
وجہ: (١)ایک مسلمان سے یہی امید ہے کہ جس دن یا رات میں بیہوشی طاری ہوئی اس دن اس کے روزہ رکھنے کی نیت تھی اس لئے گویا کہ وہ روزہ کی نیت کے ساتھ کھانے پینے سے رکا رہا اس لئے اس دن کا روزہ ہو گیا۔اور کئی دنوں تک بیہوش رہا تو باقی دنوں میں روزہ کی نیت نہیں پائی گئی اس لئے روزہ نہیں ہوا اس لئے ان دنوں کی قضا ء لازم ہو گی (٢)نیت کرنے کی حدیث ۔ انما الاعمال بالنیات پہلے گزر چکی ہے۔(٣) اثر میں ہے۔ عن نافع قال کان ابن عمر یصوم تطوعا فیغشی علیہ فلا یفطر، قال الشیخ ھذا یدل علی ان الاغماء خلال الصوم لایفسدہ۔ (سنن للبیھقی ، باب من اغمی علیہ فی ایام من اشہر