Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 3

120 - 689
(٩٦٩) وان کا ن فی رمضان فعلیہ ان یصوم لزوال المرخص فی وقت النےة)   ١ الاتری انہ لو کان مقیمًا فی اول الیوم ثم سافرلایباح لہ الفطرترجیحا لجانب الاقامة فہٰذا اولی 

تشریح : ایک آدمی سفر میں تھا اس لئے نفلی روزہ رکھنے کی نیت نہیں تھی ، پھر زوال سے پہلے پہلے اپنا گھر آگیا اور نفلی روزے کی نیت کر لی تو روزہ ہو جائے گا اور اس روزے کو توڑے گا تو قضاء لازم ہو گی ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مسافر نفلی روزہ رکھنے کا اہل بھی ہے اور روزہ رکھ لے تو اس کا رکھنا بھی صحیح ہے ، کافر کی طرح نہیں ہے کہ وہ صبح صادق کے وقت کسی روزے کا اہل ہی نہ ہو ، اس لئے زوال سے پہلے پہلے نفلی روزے کی نیت کر لی تو روزہ ہو جائے گا ۔
ترجمہ: (٩٦٩) اور اگر رمضان میں ہو تو اس پر واجب ہے کہ روزہ رکھے نیت کے وقت میں رخصت کے زائل ہو نے کی وجہ سے
تشریح :  ایک آدمی سفر میں تھا اس لئے رمضان کاروزہ نہیںرکھاتھا اب زوال سے پہلے گھر آگیا اور ابھی تک کھا یا پیا نہیں ہے اس لئے روزے کی نیت کر نے کا وقت ہے اس لئے  روزہ توڑنے کی اجازت نہیں اب نیت کر کے روزہ رکھ لے ، اس کی وجہ یہ ہے کہ سفر کی وجہ سے اس کے لئے رخصت تھی اور اب سفر ختم ہو گیااس لئے رخصت ختم ہو گئی ، اور نیت کر نے کا وقت بھی ہے اس لئے روزہ رکھ لے ۔ 
ترجمہ:  ١  کیا نہیں دیکھتے کہ اگر دن کے شروع حصے میںمقیم ہو تا پھر سفر کر تاتو اس کے لئے روزہ توڑنا مباح  نہیں ہے اقامت کی جانب کو ترجیح دینے کے لئے اس لئے یہ تو زیادہ بہتر ہے ۔ 
تشریح :  یہ دلیل عقلی ہے کہ کوئی آدمی گھر میں مثلا نو بجے تک ہو تو ابھی سفر نہ ہو نے کی وجہ سے روزہ رکھنا چاہئے اور نو بجے کے بعد سفر کیا تو اس سفر میں روزہ نہیں توڑنا چاہئے کیونکہ شروع میں اقامت مو جود ہے اس لئے اقامت کی جانب کو ترجیح دینے کے لئے روزہ رکھ لینا چاہئے ، جب شروع میں گھر میں ہو تو روزہ رکھنا چاہئے تو اسی پر قیاس کر تے ہوئے جب زوال سے پہلے مقیم ہوا تو اقامت کی جانب کو ترجیح  ہو گی اور روزہ رکھنا چاہے ۔
وجہ :(١)اس حدیث میں ہے کہ دن کے شروع حصے میں مدینہ طیبہ میں تھے  پھر سفر  فر ما یا تو آپ نے روزہ رکھا اورصحابہ  کو مشقت ہو ئی تو مقام کدید میںجا کر روزہ توڑا ، حدیث ہے ۔عن ابن عباس  أن رسول اللہ  ۖ خرج الی مکة فی رمضان فصام فلما بلغ الکدید أفطر فأفطر الناس ۔( بخاری شریف ، باب اذا صام أیاما من رمضان ثم سافر ، ص ٣١٢، نمبر ١٩٤٤) اس حدیث میں ہے کہ حضور ۖ نے سفر کیا تو شروع میں رمضان کا روزہ رکھا ، اس لئے کہ کوئی گھر پر ہو پھر سفر کرے تو روزہ رکھنا چاہئے (٢) سمع الحسن یقول : اذا أصبح الرجل صائما فی شھر رمضان ثم خرج مسافرا نھارا فلا یفطر ذالک الیوم الا أن یخاف العطش علی نفسہ فان تخوفہ افطر و القضاء علیہ فان شاء بعد أفطر و ان شاء 

Flag Counter