Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 3

116 - 689
٤ عذر لقولہ ۖ افطر واقض یوما مکانہ (٩٦٥)  واذا بلغ الصبی او اسلم الکافر فی رمضان امسکابقےة یومہما)  ١   قضاء لحق الوقت بالتشبہ 

وجہ:   (١) اس حدیث میں اس کا ثبوت ہے ۔ قال کنت اسمع سماک بن حرب یقول احد بنی ام ھانی ئ.....فقال رسول اللہ  ۖ : الصائم المتطوع أمین نفسہ ان شاء صام و ان شاء أفطر( ترمذی شریف ، باب ماجاء فی افطار الصائم المتطوع ص ١٨٥ نمبر٧٣٢) اس حدیث میں ہے کہ نفلی روزہ رکھنے والا چاہے تو روزہ رکھے چا ہے تو توڑ دے ، اس لئے بغیر عذر کے بھی توڑ سکتا ہے ۔(٢) اس اثر میں ہے عن جابر بن عبد اللہ : کان لا یری بافطار التطوع بأسا ۔(مصنف عبد الرزاق ، باب افطار التطوع و صومہ اذا لم یبیتہ ، ج رابع ، ص٢٠٩، نمبر٨٨٠١) اس اثر میں ہے کہ نفلی روزہ توڑنے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔ 
اور دوسری روایت یہ ہے کہ بغیر عذر کے نفلی روزہ توڑنا مباح نہیں ہے ، البتہ عذر ہو تو توڑنا مباح ہے ۔
وجہ :  (١) اس کی دلیل یہ حدیث ہے۔ عن ابی ھریرة قال قال رسول اللہ  ۖ : اذا دعی أحدکم  الی طعام و ھو صائم فلیقل : انی صائم ۔(ابو داؤد شریف ، باب  ما یقول الصائم  اذا دعی الی الطعام  ص ٣٥٧ نمبر٢٤٦١) اس حدیث میں ہے کہ کھانے کے لئے بلائے تب بھی روزہ نہ توڑے ، اس کا مطلب یہ نکلا کہ بغیر عذر کے روزہ نہ توڑے۔ (٢)عن ابی ھریرة قال قال رسول اللہ  ۖ : اذا دعی أحدکم فلیجب فان کان مفطرا فلیطعم و ان کان صائما فلیصل ۔ قال ھشام و الصلاة الدعاء ۔ ( ابو داؤد شریف ، باب فی الصائم یدعی الی ولیمة ص ٣٥٦ نمبر ٢٤٦٠) ااس حدیث میں ہے کہ روزہ دار ہو اور ولیمے میں کھا نے کے لئے بلائے تو عذر کر دے اور روزہ نہ توڑے ۔
ترجمہ:  ٤   ضیافت بھی عذر ہے ] ضیافت کی وجہ سے روزہ توڑ سکتا ہے [ حضور ۖ کے قول کی وجہ سے کہ روزہ توڑ دو اور اس کی جگہ پر ایک دن قضاء کر لینا  
تشریح :   صاحب ھدایہ کی حدیث یہ ہے ۔صنع ابو سعید الخدری طعاما فدعا النبی  ۖ و اصحابہ فقال رجل من القوم  انی صائم فقال لہ رسول اللہ  ۖ : صنع لک اخوک و تکلف لک أخوک ، أفطر و صم یو ما مکانہ ۔ (دار قطنی، باب ،ج ثانی ، کتاب الصوم ص ١٥٧ نمبر ٢٢١٨ سنن للبیھقی ، باب التخییر فی القضاء ان کان صومہ تطوعا ،ج رابع ، ص ٤٦٢، نمبر ٨٣٦٢)اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ضیافت اور مہمانی کی وجہ سے بھی نفلی روزہ توڑا جا سکتا ہے ۔  
ترجمہ:  (٩٦٥)  اگر رمضان میں بچہ بالغ ہو جائے یا کافر مسلمان ہو جائے تو دن کا باقی حصہ رکے رہیں ۔  
ترجمہ:  ١   تاکہ روزہ داروں کے ساتھ مشابہت اختیار کر تے ہوئے وقت کا حق ادا ہو جائے  
تشریح:  جس دن بالغ ہوا یا جس دن مسلمان ہوا اس دن سے روزہ ان پر فرض ہوا اس لئے اس کے بعد والے دن کی قضا 

Flag Counter