٤ عذر لقولہ ۖ افطر واقض یوما مکانہ (٩٦٥) واذا بلغ الصبی او اسلم الکافر فی رمضان امسکابقےة یومہما) ١ قضاء لحق الوقت بالتشبہ
وجہ: (١) اس حدیث میں اس کا ثبوت ہے ۔ قال کنت اسمع سماک بن حرب یقول احد بنی ام ھانی ئ.....فقال رسول اللہ ۖ : الصائم المتطوع أمین نفسہ ان شاء صام و ان شاء أفطر( ترمذی شریف ، باب ماجاء فی افطار الصائم المتطوع ص ١٨٥ نمبر٧٣٢) اس حدیث میں ہے کہ نفلی روزہ رکھنے والا چاہے تو روزہ رکھے چا ہے تو توڑ دے ، اس لئے بغیر عذر کے بھی توڑ سکتا ہے ۔(٢) اس اثر میں ہے عن جابر بن عبد اللہ : کان لا یری بافطار التطوع بأسا ۔(مصنف عبد الرزاق ، باب افطار التطوع و صومہ اذا لم یبیتہ ، ج رابع ، ص٢٠٩، نمبر٨٨٠١) اس اثر میں ہے کہ نفلی روزہ توڑنے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔
اور دوسری روایت یہ ہے کہ بغیر عذر کے نفلی روزہ توڑنا مباح نہیں ہے ، البتہ عذر ہو تو توڑنا مباح ہے ۔
وجہ : (١) اس کی دلیل یہ حدیث ہے۔ عن ابی ھریرة قال قال رسول اللہ ۖ : اذا دعی أحدکم الی طعام و ھو صائم فلیقل : انی صائم ۔(ابو داؤد شریف ، باب ما یقول الصائم اذا دعی الی الطعام ص ٣٥٧ نمبر٢٤٦١) اس حدیث میں ہے کہ کھانے کے لئے بلائے تب بھی روزہ نہ توڑے ، اس کا مطلب یہ نکلا کہ بغیر عذر کے روزہ نہ توڑے۔ (٢)عن ابی ھریرة قال قال رسول اللہ ۖ : اذا دعی أحدکم فلیجب فان کان مفطرا فلیطعم و ان کان صائما فلیصل ۔ قال ھشام و الصلاة الدعاء ۔ ( ابو داؤد شریف ، باب فی الصائم یدعی الی ولیمة ص ٣٥٦ نمبر ٢٤٦٠) ااس حدیث میں ہے کہ روزہ دار ہو اور ولیمے میں کھا نے کے لئے بلائے تو عذر کر دے اور روزہ نہ توڑے ۔
ترجمہ: ٤ ضیافت بھی عذر ہے ] ضیافت کی وجہ سے روزہ توڑ سکتا ہے [ حضور ۖ کے قول کی وجہ سے کہ روزہ توڑ دو اور اس کی جگہ پر ایک دن قضاء کر لینا
تشریح : صاحب ھدایہ کی حدیث یہ ہے ۔صنع ابو سعید الخدری طعاما فدعا النبی ۖ و اصحابہ فقال رجل من القوم انی صائم فقال لہ رسول اللہ ۖ : صنع لک اخوک و تکلف لک أخوک ، أفطر و صم یو ما مکانہ ۔ (دار قطنی، باب ،ج ثانی ، کتاب الصوم ص ١٥٧ نمبر ٢٢١٨ سنن للبیھقی ، باب التخییر فی القضاء ان کان صومہ تطوعا ،ج رابع ، ص ٤٦٢، نمبر ٨٣٦٢)اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ضیافت اور مہمانی کی وجہ سے بھی نفلی روزہ توڑا جا سکتا ہے ۔
ترجمہ: (٩٦٥) اگر رمضان میں بچہ بالغ ہو جائے یا کافر مسلمان ہو جائے تو دن کا باقی حصہ رکے رہیں ۔
ترجمہ: ١ تاکہ روزہ داروں کے ساتھ مشابہت اختیار کر تے ہوئے وقت کا حق ادا ہو جائے
تشریح: جس دن بالغ ہوا یا جس دن مسلمان ہوا اس دن سے روزہ ان پر فرض ہوا اس لئے اس کے بعد والے دن کی قضا