Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 3

115 - 689
 ٢ ولنا ان المؤدّٰی قربة وعمل فتجب صیانتہ بالمضی عن الابطال واذا وجب المضیٔ وجب القضاء بترکہ ٣ ثم عندنا لایباح الافطار فیہ بغیر عذر فی احدی الروایتین لما بینا ویباح بعذرٍ والضیافة  

میں ہے کہ نفلی روزہ رکھنے وا لا توڑ دے تو اس پر قضاء نہیں ہے ۔   
وجہ:  (١) یہ تبرع ہے اور تبرع میں لزوم نہیں ہوتا ہے۔اس لئے نفلی روزہ یا نفلی عبادت توڑ دے تو قضا لازم نہیں۔ البتہ قضا کرے تو بہتر ہے (٢) حدیث میں ہے ۔ عن ام ھانی قالت لما کان یوم الفتح ... فقالت یا رسول اللہ لقد افطرت وکنت صائمة فقال لھا اکنت تقضین شیئا؟ قالت:لا، قال فلا یضرک ان کان تطوعا۔ (ابو داؤد شریف ، باب فی الرخصة فیہ ای فی الصوم ص ٣٤٠ نمبر ٢٤٥٦ ترمذی شریف ، باب ماجاء فی افطار الصائم المتطوع ص ١٥٥ نمبر ٧٣١) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نفلی روزہ ہو تو توڑنے میں کوئی حرج نہیں ہے (٢) دار قطنی میں ہے ۔ عن ام ھانی قالت قال رسول اللہ ۖ  ... ان کان قضاء من رمضان فصومی یوما مکانہ وان کان تطوعا فان شئت فاقضیہ وان شئت فلا تقضیہ ۔ (دار قطنی ٣ باب ،ج ثانی ، کتاب الصوم ص ١٥٤ نمبر ٢٢٠٦ سنن للبیھقی ، باب التخییر فی القضاء ان کان صومہ تطوعا ،ج رابع ص٤٦١، نمبر ٨٣٦٠)اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نفلی روزہ توڑنے کے بعد چاہے تو قضا کرے چاہے تو نہ کرے۔(٣) اس اثر میں ہے۔ عن ابن عباس قال : من أصبح صائما تطوعا ان شاء صام و ان شاء أفطر و لیس علیہ قضائ۔(مصنف عبد الرزاق ، باب افطار التطوع و صومہ اذا لم یبیتہ ، ج رابع ، ص ٢٠٨، نمبر ٨٨٠٠) اس اثر میں ہے کہ نفلی روزہ توڑے تو اس پر قضاء نہیں ہے 
ترجمہ:  ٢   ہماری دلیل یہ ہے ادا کیا ہوا نفل روزہ قربت ہے اور عمل ہے اس لئے گزرے ہوئے کو باطل ہو نے سے بچانا واجب ہے ، اور جب گزرا ہوا واجب ہوا تو اس کے چھوڑنے پر قضاء بھی واجب ہے ۔ 
تشریح :   یہ دلیل عقلی ہے کہ جتنی دیر تک نفل کا روزہ رکھا وہ ایک عمل ہے اور قربت کی چیز ہے اور آیت میں ہے کہ عمل کو باطل ہو نے سے بچاؤ، اور باطل ہو نے سے بچانے کی صورت یہی ہو سکتی ہے کہ نفل روزہ چھوٹ جائے تو اس کی قضاء واجب ہو اس لئے نفلی روزہ رکھ کر توڑنے سے قضاء واجب ہو گی ۔ آیت یہ ہے ۔یاایہا الذین آمنوا أطیعوا اللہ و اطیعوا الرسول و لا تبطلوا اعمالکم ( آیت ٣٣، سورة محمد ۖ٤٧) اس آیت میں ہے کہ اپنے عمل کو باطل نہ کرو ۔۔  مودی ٰ : ادا کیا ہوا ، روزہ رکھا ہوا ۔ مضی : ادا کیا ہوا گزرا ہوا ۔ صیانة : بچا نا
ترجمہ:  ٣   پھر دو روایتوں میں سے ایک میں ہے کہ ہمارے نزدیک بغیر عذر کے روزہ توڑنا مباح نہیں ہے ۔ اور عذر کی وجہ سے مباح ہے ۔ 
تشریح :  ایک روایت میں ہے کہ بغیر عذر کے بھی روزہ توڑ دے کیونکہ نفلی روزہ ہے ، البتہ اس کی جگہ پر قضاء کر لے ۔  

Flag Counter