احد و لا یصلی احد عن احد (٩٦٤) ومن دخَل فی صلٰوة التطوع او فی صوم التطوع ثم افسدہ قضاہ) ١ خلافا للشافعی لہ انہ تبرع بالمودّٰی فلا یلزمہ مالم یتبرع بہ
اس اثر میں ہے کہ میت کی نماز کے بدلے میں نماز نہ پڑھے بلکہ اس کے بدلے میں فدیہ دے ۔
فائدہ: امام احمد فرماتے ہیں کہ ولی اس کی جانب سے روزہ رکھ کر قضا کرے گا۔
وجہ : (١) انکی دلیل یہ حدیث ہے ۔عن عائشة أن رسول اللہ ۖ قال : من مات و علیہ صیام صام عنہ ولیہ۔ ( بخاری شریف ، باب من مات و علیہ صوم ، ص ٣١٤، نمبر ١٩٥٢ مسلم شریف ، باب قضاء الصوم عن المیت ، ص ٤٦٧، نمبر ١١٤٨ ٢٦٩٣ابو داؤد شریف، باب فیمن مات وعلیہ صیام ص ٣٣٢ نمبر ٢٤٠٠) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ولی میت کی جانب سے روزہ رکھے گا۔
ترجمہ: (٩٦٤) جو نفلی نماز میں یا نفلی روزے میں داخل ہوا پھر اس کو توڑ دیا تو قضا کرے۔
وجہ: (١) نفل شروع کرنے سے پہلے پہلے نفل رہتا ہے۔ شروع کرنے کے بعد وہ نذر نفلی ہو جاتا ہے۔ اور نذر کو پورا کرنا واجب ہے اس لئے وہ واجب ہو جاتا ہے(٢) حدیث میں ہے ۔ عن عائشة قالت اھدی لی ولحفصة طعام وکنا صائمتین فافطرنا ثم دخل رسول اللہ فقلنا لہ یا رسول اللہ انا اھدیت لنا ھدیة فاشتہیناھا فافطرنا فقال رسول اللہ لا علیکما صوما مکانہ یوما آخر (ابو داؤد شریف ، باب من رای علیہ القضاء ،کتاب الصوم ص ٣٤٠ نمبر ٢٤٥٧ ترمذی شریف ، باب ماجاء فی ایجاب القضاء علیہ ،کتاب الصوم ص ١٥٥ نمبر ٧٣٥) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نفلی روزہ توڑ دے تو اس کے بدلے میں روزہ رکھے کیونکہ گویا کہ نذر نفلی کو توڑا۔حدیث میں بتایا گیا ہے کہ اس کی جگہ دوسرا روزہ رکھو۔ عن الحسن و ابراہیم قالا ان بیت الصیام من اللیل ثم افطر فعلیہ القضاء ۔ ( مصنف عبد الرزاق ، باب افطار التطوع و صومہ اذا لم یبیتہ ، ج رابع ، ص ٢١١ ، نمبر ٧٨١٩) اس اثر میں ہے کہ نفلی روزہ توڑے گا تو اس کی قضاء لازم ہو گی
نوٹ: اسی پر نفلی نماز کو بھی قیاس کیا جائے گا کہ وہ بھی توڑ دے تو قضا کرنا لازم ہوگا۔
ترجمہ : ١ برخلاف امام شافعی کے ، انکی دلیل یہ ہے کہ ادا کیا ہوانفلی روزہ تبرع ہے اس لئے جو تبرع ابھی تک نہیں کیا وہ لازم نہیں ۔
تشریح : امام شافعی کی رائے یہ ہے کہ نفلی روزہ توڑ دے تو اس کی قضاء لازم نہیں ہے کیونکہ جو کچھ ادا کیا وہ تبرع اور احسان ہے اور تبرع اور احسان لازم نہیں ہو تا اس لئے توڑ دینے پر وہ روزہ لازم نہیں ہو گا ، مو سوعہ میں عبارت یہ ہے ۔و ان افطر المتطوع من غیر عذر کرھتہ لہ و لا قضاء علیہ۔( مو سوعہ امام شافعی ، باب صیام التطوع ، ج رابع ، ص ٣٧٢، نمبر ٥٠٢١) اس عبارت