٥ ثم ہو تبرع ابتدائً حتی یعتبر من الثلث ٦ والصلوٰة کالصوم باِستحسان المشائخ وکل صلوٰة تعتبر بصوم یوم ہو الصحیح (٩٦٣) ولا یصوم عنہ الولی ولا یصلی) ١ لقولہ ۖ لا یصوم احد عن
ضروری ہے ۔
ترجمہ: ٥ پھر یہ وصیت شروع میں تبرع ہے یہی وجہ ہے کہ تہائی مال سے اعتبار کیا جائے گا۔
تشریح : وصیت کر نا شروع میں تبرع اور احسان ہے ، یہی وجہ ہے کہ تہائی مال سے ہی فدیہ ادا کر نا واجب ہے۔یہ اور بات ہے کہ آخرت میں یہ فدیہ واجب چھوٹنے کا بدلہ ہو جائے گا ۔
ترجمہ : ٦ اور مشائخ کے استحسان سے نماز روزے کی طرح ہے اور ہر نماز ایک دن کے روزے کی طرح ہے ، صحیح بات یہی ہے۔
تشریح : عام احادیث میں یہ ہے کہ رمضان کی قضاء نہ کر سکے تو وارث اس کے بدلے میں فدیہ دے ، نماز کے بارے میں نہیں ہے کہ نماز کی قضاء نہ کر سکا تو اس کے بدلے میں فدیہ دے لیکن مشائخ نے روزے پر قیاس کر کے یہ فر ما یا کہ نماز چھوٹ جائے تو ہر نماز کے بدلے ایک مسکین کو کھا نا کھلائے جس طرح ایک دن کا روزہ چھوٹ جائے تو ایک مسکین کو کھا نا کھلانا پڑتا ہے ، صحیح یہی ہے ، بعض حضرات نے فر ما یا کہ پورے دن کے پانچ نمازکے بدلے میں ایک مسکین کو کھلائے لیکن یہ صحیح نہیں ہے۔
وجہ : (١) اس اثر میں ہے کہ نماز نہ پڑھے بلکہ اس کے بدلے میں فدیہ دے دے ، اثر یہ ہے ۔ عن ابن عمر قال : لا یصلین أحد عن أحد و لا یصومن أحد عن أحد و لکن ان کنت فاعلا تصدقت أو اھدیت ۔ ( مصنف عبد الرزاق ، باب الصدقة عن المیت ، ج تاسع ، ص ٨، نمبر ١٦٦٥٧) اس اثر میں ہے کہ میت کی نماز کے بدلے میں نماز نہ پڑھے بلکہ اس کے بدلے میں فدیہ دے ۔
ترجمہ: (٩٦٣) ولی میت کی جانب سے نہ روزہ رکھے اورنہ نماز پڑھے ۔
ترجمہ: ١ حضور ۖ کے قول کی وجہ سے کہ کوئی کسی کے بدلے نہ روزہ رکھے اور نہ نماز پڑھے ۔
تشریح : حنفیہ کے نزدیک یہ ہے کہ ولی میت کی جانب سے نہ نماز پڑھ سکتا ہے اور نہ روزہ رکھ سکتا ہے البتہ اس کا فدیہ د ے سکتاہے ، صاحب ھدایہ کا اثر یہ ہے۔ ان ابن عمر کان اذا سئل عن الرجل یموت و علیہ صوم من رمضان أو نذر یقول : لا یصوم احد عن احد ، و لکن تصدقوا عنہ من مالہ للصوم لکل یوم مسکینا ۔ ( سنن بیہقی ، باب من قال اذا فرط فی القضاء بعد الامکان حتی مات الخ، ج رابع ، ص ٤٢٤، نمبر ٨٢١٥) اس اثر میں ہے کہ کوئی کسی کا روزہ نہ رکھے بلکہ اس کی جانب سے فدیہ دے(٢) اس اثر میں بھی ہے ۔ عن ابن عمر قال : لا یصلین أحد عن أحد و لا یصومن أحد عن أحد و لکن ان کنت فاعلا تصدقت أو اھدیت ۔ ( مصنف عبد الرزاق ، باب الصدقة عن المیت ، ج تاسع ، ص ٨، نمبر ١٦٦٥٧)