٣ عندنا خلافا للشافعی وعلی ہٰذا الزکوٰة ہو یعتبرہ بدیون العباداذ کل ذٰلک حق ما لی یجری فیہ النیابة
٤ ولنا انہ عبادة ولا بد فیہ من الاختیار و ذٰلک فی الایصاء دون الوراثة لانہا جبرےة
مال میں سے واجب ہو گا پورے مال ادا کر نا واجب نہیں ہو گا ۔
ترجمہ: ٣ برخلاف امام شافعی کے اوراسی اختلاف پر زکوة بھی ہے ، وہ آدمی کے قرض پر قیاس کر تے ہیں ، اس لئے کہ ہر ایک مالی حق ہے جس میں نیابت جاری ہو تی ہے ۔
تشریح : امام شافعی فر ما تے ہیں کہ چاہے میت وصیت کرے یا نہ کرے وارث کو فدیہ دینا ضروری ہے اور اتنا فدیہ ہے کہ میت کا پورا مال خرچ ہو جا تا ہے تو پورا مال خرچ کر نا ہو گا ۔کیونکہ یہ مالی حق ہے جس میں نیابت بھی جاری ہو تی ہے ۔
وجہ : (١) اس کی وجہ یہ ہے کہ انکے یہاں فدیہ اور زکوة اللہ کا قرض ہے تو جس طرح بندوں کا قرض ہو تو میت کے وصیت کے بغیر وارث پر اس کا ادا کر نا ضروری ہے اور پورے مال میں سے ضروری ہے اسی طرح اللہ کے قرض کو بھی بغیر وصیت کے بھی ادا کر نا ضروری ہے اور پورے مال میں سے ادا کر نا ضروری ہے ، وہ عبادت مالیہ کو بندوں کے قرض پر قیاس کر تے ہیں ۔ (٢) حدیث میں اس کا ثبوت ہے ۔عن ابن عباس قال : جاء رجل الی النبی ۖ فقال یا رسول اللہ ۖ ان امی ما تت و علیھا صوم شھر فأقضیہ عنھا ؟ قال نعم فدین اللہ أحق أن یقضی ۔ ( بخاری شریف ، باب من مات و علیہ صوم ، ص ٣١٤، نمبر١٩٥٣ مسلم شریف ، باب قضاء الصوم عن المیت ، ص ٤٦٧، نمبر ١١٤٨ ٢٦٩٣) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ روزے کی قضاء انسانی قرض کی طرح ہے جس کو بغیر وصیت کے بھی ادا کر نا ضروری ہے ۔(٣) اس حدیث میں ہے کہ چاہے وصیت کرے یا نہ کرے ولی اسکی جانب سے صدقہ کرے ، ان ابن عمر کان اذا سئل عن الرجل یموت و علیہ صوم من رمضان أو نذر یقول : لا یصوم احد عن احد ، و لکن تصدقوا عنہ من مالہ للصوم لکل یوم مسکینا ۔ ( سنن بیہقی ، باب من قال اذا فرط فی القضاء بعد الامکان حتی مات الخ، ج رابع ، ص ٤٢٤، نمبر ٨٢١٥) اس اثر میں ہے کہ چاہے میت وصیت کرے یا نہ کرے ولی پھر بھی اس کی جانب سے فدیہ دے ۔
ترجمہ: ٤ ہماری دلیل یہ ہے کہ فدیہ دینا عبادت ہے اس لئے اس میںاختیار ہونا ضروری ہے اور یہ وصیت کی صورت میں ہو گا وراثت کی صورت میں نہیں ہو گا کیونکہ وراثت تو جبری ہے ۔
تشریح : رمضان کا فدیہ دینا عبادت ہے اور عبادت اس وقت ہو تی ہے جبکہ اپنے اختیار سے کرے اور وصیت کر نے میں اختیار ہو گا اس لئے وصیت کرے ، کیونکہ وراثت تو جبری ہے ، میت کے مر نے کے بعد خود بخود وارث کی ملکیت میں آجا تی ہے اس لئے میت کااس میں اختیار نہیں ہے چنانچہ وارث اس مال کو نہیں بھی لینا چاہے تب بھی اس کی ملکیت میں آ جا تا ہے ، اس لئے وصیت کر نا