Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 3

111 - 689
رمضان فاوصی بہ اطعمہ عنہ ولیہ لکل یوم مسکینا نصف صاع من براوصاعا من تمر او شعیرلانہ )
١ عجز عن الاداء فی اٰخر عمرہ فصار کالشیخ الفانی  ٢ ثم لابدمن الایصاء 

(  صاع کا وزن  )
صاع	رطل	وسق	کیلو	لیٹر	کتنا واجب ہوگا
1 صاع	8	-----	3.538	5.88	صدقة الفطر
آدھا صاع	4	-----	1.769	2.94	1.769کیلو
60 صاع	-----	1 وسق	212.28	352.80	عشر
300 صاع	-----	5 وسق	1061.40	1764	106.14 کیلو
ترجمہ:   ١    اس لئے کہ آخیر عمر میں وہ روزہ ادا کر نے سے عاجز ہو گیا تو  وہ شیخ فانی کی طرح ہو گیا ۔
تشریح :   ایک آدمی رمضان کا قضاء روزہ رکھ سکتا تھا لیکن سستی سے نہیں رکھا اور اس کا انتقال ہو گیا تو اب وہ شیخ فا نی کی طرح ہو گیا کہ روزہ نہیں رکھ سکا ، اور شیخ فانی کا حکم اوپر گزرا کہ وہ فدیہ دے گا یا اس کا ولی فدیہ دے گا تو یہاں بھی میت کا ولی فدیہ دے گا ۔
ترجمہ:  ٢   پھر ہمارے یہاں وصیت کر نا ضروری ہے ۔ 
تشریح :  مرنے والے پر روزے کی قضاء باقی ہے ، یا زکوة ادا کر نا باقی ہے تو اس کی ادئیگی کی وصیت کرے گا تو وارث پر اس کا ادا کر نا واجب ہو گا  اور میت کی جانب سے ادا ہو گا ، اور اگر وصیت نہیں کی تو وارث اپنی خوشی سے ادا کرے تو کر سکتا ہے اس پر ادا کر نا واجب نہیں ہے ۔ اور وصیت کر نے کے بعد بھی صرف میت کے تہائی مال سے ادا کر نا واجب ہو گا پورے مال سے واجب نہیں ہو گا ، اور اگر اتنا فدیہ ہے کہ تہائی مال سے ادا نہیں ہو تا تو تہائی سے زیادہ خرچ کر نا وارث پر واجب نہیں ہے ۔ 
وجہ :  (١) امام ابو حنیفہ  کی دلیل یہ ہے کہ رمضان کی قضاء عبادت ہے اور اس کا فدیہ دینا بھی عبادت ہے ، اور عبادت اس وقت ادا ہو تا ہے جبکہ اپنے اختیار سے اس کو ادا کرے ، کوئی اور آدمی اس کو ادا کر دے گا تو یہ عبادت نہیں ہو گی ، پس جب فدیہ دینے کی وصیت کرے گا تو اس کے اختیار سے فدیہ ہوا اور عبادت ہوئی اس لئے وصیت کریگا تو وارث پر ادا کر نا واجب ہو گا ورنہ نہیں اور وہ بھی تہائی
Flag Counter