١ والاصل فیہ قولہ تعالیٰ وعلی الذین یطیقونہ فدےة طعام مسکین قیل معناہ لایطیقونہ ٢ ولو قدر علی الصوم یبطل حکم الفداء لان شرط الخلیفة استمرار العجز (٩٦٢)ومن مات وعلیہ قضاء
الشیخ الکبیر و المرأة الکبیرة لا یستطیعان أن یصوما ، فلیطعمان مکان کل یوم مسکینا ۔( بخاری شریف ، باب قولہ تعالی ایاما معدودات فمن کان منکم مریضا الخ ج ثانی ص ٦٤٧ کتاب التفسیر،نمبر٤٥٠٥ابو داؤد شریف ، باب من قال ھی مثبتة للشیخ والحبلی ص ٣٢٤ نمبر ٢٣١٨) )اس اثر سے معلوم ہوا کہ شیخ فانی قضا نہیں کرے گا۔اور ہر دن کے بدلے آدھا صاع گیہوں مسکین کو فدیہ دے گا۔(٢)عن ابن عباس انہ کان یقرأھا( وعلی الذین یطیقونہ) ویقول ھو الشیخ الکبیر الذی لا یستطیع الصیام فیفطر ویطعم عن کل یوم مسکینا نصف صاع من حنطة (مصنف عبد الرزاق ، باب الشیخ الکبیر ج رابع ص١٧٠ نمبر ٧٦٠٤)اس اثر سے معلوم ہوا کہ شیخ فانی قضا نہیں کرے گا۔اور ہر دن کے بدلے آدھا صاع گیہوں مسکین کو فدیہ دے گا۔
ترجمہ: ١ اصل دلیل اللہ تعالی کی آیت ہے۔ وعلی الذین یطیقونہ فدیة طعام مسکین فمن تطوع خیرا فھو خیر لہ و ان تصوموا خیر لکم ان کنتم تعلمون (آیت١٨٤ سورة البقرة٢ )، اور اس کا معنی یہ فر ما یا کہ روزے کی طاقت نہ رکھتا ہو
تشریح : شیخ فا نی کے لئے فدیہ دینے کی دلیل اللہ تعالی کی اوپر کی آیت ہے جس میں ہے کہ روزے کی طاقت رکھتا ہو تو فدیہ دے ، لیکن حضرت ابن عباس نے فر ما یا کہ اس آیت کا معنی یہ ہے کہ روزے کی طاقت نہ رکھتا ہو تو فدیہ دے، اوپر یہ اثر گزر گیا ہے ۔
ترجمہ: ٢ اور اگر روزے قادر ہو گیا تو فدیہ کا حکم باطل ہو جائے گا اس لئے کہ خلیفہ ہونے کی شرط عجز کا ہمیشہ باقی رہنا ہے ۔] اور یہاں عجز ہمیشہ باقی نہیں رہا اس لئے فدیہ باطل ہو جائے گا [
تشریح : یہ دلیل عقلی ہے ۔اگر فدیہ دینے کے بعد روزے پر قادر ہو گیا تو فدیہ باطل ہو جائے گا اور روزہ رکھنا ہو گا ، کیونکہ فدیہ روزے کا خلیفہ ہے اور خلیفہ اس وقت رکھتا ہے جبکہ اصل پر قدرت نہ ہو ، اور یہاں موت سے پہلے روزے پر قدرت ہو گئی اس لئے فدیہ باطل ہو کر روزہ لازم ہو گا ، کیونکہ عجز ہمیشہ باقی نہیں رہا ۔
ترجمہ: (٩٦٢) جو مرگیا اور اس پر رمضان کی قضا ہو پس اس نے اس کی وصیت کی تو اس کی جانب سے اس کا ولی کھلائے گا ہر دن کے بدلے میں ایک مسکین کو آدھا صاع گیہوں یا ایک صاع کھجور یا جو،
تشریح: کوئی مر گیا اور اس پر رمضان کا روزہ قضا تھا اور اس نے اس کی ادائیگی کی وصیت بھی کی تو ولی اس کی قضا میں ہر دن کے بدلے میں ایک مسکین کو کھانا کھلائے جس کی مقدار آدھا صاع گیہوں ہو ، یا ایک صاع کھجور ہو ، یا ایک صاع جو ہو ۔