Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 3

109 - 689
٣ ولنا ان الفدےة بخلاف القیاس فی الشیخ الفانی والفطر بسبب الولد لیس فی معناہ لانہ عاجز بعد الوجوب والولد لاوجوب علیہ اصلا  (٩٦١) والشیخ الفانی الذی لا یقدر علی الصیام یفطر وےُطعم لکلّ یوم مسکینا کما یطعم فی الکفارات)  

کھلائے گی اور قضا نہیں کرے گی۔(٢) انکی دلیل یہ آیت بھی ہے  وعلی الذین یطیقونہ فدیة طعام مسکین۔ (آیت ١٨٤ سورةالبقرة) آیت سے معلوم ہوا کہ جو طاقت نہ رکھتے ہوں وہ فدیہ دیںگے۔ اس آیت میں شیخ فانی داخل ہیں۔ لیکن ابن عباس کے قول کے مطابق حاملہ اور مرضعہ بھی داخل ہیں۔  عن ابن عباس( وعلی الذین یطیقونہ فدیة طعام مسکین) قال کانت رخصة للشیخ الکبیر والمرأة الکبیرة وھما یطیقان الصیام ان یفطرا ویطعما مکان کل یوم مسکینا والحبلی والمرضع اذا خافتا۔ (ابو داؤد شریف ، باب من قال ھی مثبتة للشیخ والحبلی ص ٣٢٤ نمبر ٢٣١٨) اس اثر سے معلوم ہوا کہ حاملہ اور مرضعہ بھی ہر دن کے روزے کے بدلے فدیہ دیںگی۔جس طرح شیخ فانی فدیہ دیتے ہیں ۔ 
ترجمہ:  ٣  ہماری دلیل یہ ہے کہ شیخ فانی میں فدیہ دینا خلاف قیاس ہے ، اور روزہ توڑنا بچے کی وجہ سے ہے جو شیخ فانی کے معنی میں نہیں ہے اس لئے کہ بوڑھا واجب ہو نے کے بعد عاجز ہوا ہے ، اور بچے پر تو شروع سے واجب ہی نہیں ہے ۔
تشریح :  یہ امام شافعی  کو جواب ہے ۔ انہوں نے حاملہ اور مرضعہ کو شیخ فانی پر قیاس فر ما یا تھا ، کہ شیخ فانی پر فدیہ ہے تو حامل اور مرضعہ پر بھی فدیہ ہو نا چاہئے ۔ اس کا جواب دیا جا رہا ہے کہ پہلی بات تو یہ ہے کہ شیخ فانی پر جو آیت کی وجہ سے فدیہ لازم کیا گیا ہے وہ خلاف قیاس ہے ، اور جو چیز خلاف قیاس ثابت ہو تی ہے اس پر کسے اور چیز کو قیاس نہیں کر سکتے ، دوسری بات یہ ہے کہ شیخ فا نی پر روزہ واجب ہوا ہے اس کے بعد روزہ رکھنے سے عاجز ہو نے کی بنا پر اس روزے کے بدلے میں فدیہ واجب ہوا ، اور حاملہ اور دودھ پلانے والی عورت بچے کی وجہ سے روزہ توڑ رہی ہے ، اور بچے کا حال یہ ہے کہ اس پر سرے سے روزہ واجب ہی نہیں ہے تو اس کے بدلے میں فدیہ کیسے دلوائیں ؟  اس لئے حاملہ اور مرضعہ پر فدیہ لازم نہیں ہو نا چاہئے ۔ اصل دلیل تو اوپر کی حدیث اور اثر ہے ۔   
ترجمہ:  (٩٦١)  اور شیخ فانی جو رزے پر قدرت نہ رکھتا ہو افطار کرے گا۔اور ہر دن کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلائے گا جیسا کہ کفارات میں کھلاتے ہیں۔  
تشریح :   ایسا بوڑھا جو روزہ نہیں رکھ سکتا ہو اور آئندہ بھی رکھنے کی امید نہ ہو تو اس پر روزہ واجب ہے لیکن نہ رکھنے کی وجہ سے اس پر فدیہ لازم کیا گیا ہے کہ ہر دن کے بدلے ایک مسکین کو کھا نا کھلائے ۔  کیونکہ اب رکھنے کی امید ہی نہیں ہے ۔  
وجہ:  (١) اوپر آیت گزر گئی جس میں تھا کہ جو طاقت نہ رکھتا ہو وہ ہر روز کے بدلے میں کفارہ ایک مسکین کا کھانا دے۔ اثر میں ہے۔سمع ابن عباس یقول ( وعلی الذین یطیقونہ فدیة طعام مسکین)قال ابن عباس لیست بمنسوخة ، ھو 

Flag Counter