١ لانہ افطار بعذر ولا فدےة علیہما ٢ خلافا للشافعی فیما اذاخافت علی الولد ہو یعتبر ہ بالشیخ الفانی
٣٢٤ نمبر ٢٣١٨)اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حاملہ اور دودھ پلانے والی عورتوں پر روزہ نہیں ہے ۔(٣)اور بعد میں قضا کرے گی اور فدیہ نہیں دے گی۔ اس کی وجہ یہ اثر ہے۔ عن ابن عباس قال تفطر الحامل والمرضع فی رمضان وتقضیان صیاما ولا تطعمان۔ (مصنف ابن عبد الرزاق ، باب الحامل والمرضع ،ج رابع، ص ١٦٨، نمبر٧٥٩٤) اس اثر سے معلوم ہوا کہ وہ فدیہ نہیں دیگی بلکہ قضا کرے گی(٤)چونکہ وہ بعد میں قضا کرنے کی طاقت رکھتی ہے اس لئے قضا ہی کرے گی۔فدیہ تو اس وقت ہوتا ہے جب زندگی بھر اس کو قضا نہ کر سکے۔ جیسے شیخ فانی زندگی بھر روزہ کو قضا نہیں کر سکتا ۔
ترجمہ: ١ اس لئے کہ یہ عذر کی وجہ سے روزہ توڑنا ہے اور عذر کی وجہ سے روزہ توڑنے والے پر فدیہ نہیں ہے
تشریح : یہ دلیل عقلی ہے کہ حاملہ عورت اور دودھ پلانے والی عورت نے اپنے عذر کی وجہ سے یا بچے کے عذر کی وجہ سے روزہ توڑا ہے اور قاعدہ یہ ہے کہ عذر کی وجہ سے روزہ توڑا ہوتو اس پر صرف قضاء ہے کفارہ نہیں ہے اس لئے حاملہ اور مرضعہ عورت پر بھی صرف قضاء ہو نی چاہئے ، کفارہ نہیں ہو نی چاہئے ۔
ترجمہ: ٢ برخلاف امام شافعی کے جبکہ بچے پر خوف ہو ۔ وہ شیخ فانی پر قیاس کر تے ہیں ۔
تشریح : اگر حاملہ عورت اور دودھ پلانے والی عورت اپنی مجبوری کی وجہ سے روزہ نہ رکھ سکتی ہو تب تو وہ بھی صرف قضاء کرے گی کفارہ نہیں دے گی ،کیونکہ وہ بیمار کی طرح ہو گئی لیکن اگر بچے کی مجبوری کی وجہ سے روزہ نہیں رکھ سکتی ہو تو امام شافعی کی رائے یہ ہے کہ قضاء کے ساتھ فدیہ بھی دے ۔ مو سوعہ میں عبارت یہ ہے ۔ قال الشافعی : و الحامل و المرضع اذا أطاقتا الصوم و لم تخافا علی ولدیھما لم تفطرا ، فان خافتا علی ولدیھما أفطرتا و تصدقتا عن کل یوم بمد حنطة و صا متا اذا أمنتا علی ولدیھما ۔ ( مو سوعہ امام شافعی ،باب احکام من افطر فی رمضان ، ج رابع ، ص٣٧٥، نمبر٥٠٣٥)اس عبارت میں ہے کہ حاملہ اور دودھ پلانے والی عورت خود روزہ نہیں رکھ سکتی ہوں تو وہ بیمار کے درجے میں ہیں وہ بعد میں قضاء کرے گی اور فدیہ دینے کی ضرورت نہیں ہے ، کیونکہ وہ مریض ہو گئی ، اور اگر خود تو روزہ رکھتی تھی لیکن بچے کی وجہ سے روزہ نہیں رکھ سکتی تو وہ ابھی روزہ نہ رکھے بعد میں روزہ رکھے اور فدیہ بھی دے ۔
وجہ : (١) ۔ ان کی دلیل یہ اثر ہے ۔ عن سعید بن جبیر قال تفطر الحامل التی فی شھرھا والمرضع التی تخاف علی ولدھا تفطران وتطعمان کل واحدة منھما کل یوم مسکینا ولا قضاء علیھما ۔ (مصنف عبد الرزاق ، باب الحامل والمرضع ج رابع ص ١٦٧ نمبر٧٥٨٥) اس اثر سے معلوم ہوا کہ حاملہ اور مرضعہ عورت ہر دن کے بدلے میں ایک مسکین کو کھانا