(٩٦٠) والحامل والمرضع اذا خافتا علی انفسہما او ولدیہما افطرتا وقضتا دفعا للحرج ولاکفارة علیہما )
رمضان کے بعد قضاء کرے گا تب بھی فدیہ لازم نہیں ہوگا اس لئے کہ تراخی کے ساتھ قضاء کر نے کی آیت میں گنجائش ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رمضان کے بعد پہلے نفلی روزہ رکھے اس کے بعد رمضان کی قضاء رکھے یہ بھی جائز ہے ۔
وجہ : (١) حدیث میں ہے کہ حضرت عائشہ رمضان کی قضاء میں اتنی تاخیر کرتی تھیں کہ شعبان آجا تا تھا جس سے معلوم ہوا کہ قضاء میں تاخیر کی گنجائش ہے اور جب تاخیر کی گنجائش ہے تو فدیہ لازم نہیں ہو گا ۔ حدیث یہ ہے ۔سمعت عائشة تقول کان یکون علی الصوم من رمضان فما استطیع أن اقضیہ الا فی شعبان ۔ (بخاری شریف ، باب متی یقضی قضاء رمضان ؟ ص ٣١٣ نمبر ١٩٥٠ ابو داؤد شریف ، باب تاخیر قضاء رمضان ص٣٤٨ نمبر ٢٣٩٩) (٢) اور تاخیر کر نے پر فدیہ لازم نہیں ہو گا اس کے لئے یہ اثرہے۔ و قال ابراہیم : اذا فرط حتی جاء رمضان آخر یصومھما ، و لم یر علیہ اطعاما ۔ و یذکر عن ابی ھریرة مرسلا ، و عن ابن عباس : انہ یطعم و لم یذکر اللہ تعالی انما قال (فعدة من ایام آخر) ۔ (بخاری شریف ، باب متی یقضی قضاء رمضان ؟ ص ٣١٣ نمبر ١٩٥٠)اس اثر میں ہے کہ اتنی تاخیر ہوئی کہ دوسرا رمضان آگیا تب بھی فدیہ نہیں ہے ، اور بعض اثر میں جو اس کا ذکر ہے وہ بطور استحباب کے ہے ۔
ترجمہ: (٩٦٠) حاملہ اور دودھ پلانے والی عورت اگر اپنے اوپر خوف کرے ۔ یا اپنے بچوں پر خوف کرے تو افطار کرے اور قضا کرے حرج کو دفع کر نے کے لئے اور ان دونوں پر کفارہ نہیں ہے ۔
تشریح : مرضعہ کا معنی ہے دودھ پلانے والی عورت۔ حاملہ اور دودھ پلانے والی عور ت کمزوری کی وجہ سے روزہ نہ رکھ سکتی ہو یا خود تو روزہ رکھ سکتی ہے لیکن اس کی وجہ سے دودھ کم ہو گا اور بچہ بھوک سے بیتاب ہو گا اس لئے بچے کی وجہ سے روزہ نہیں رکھ سکتی ہے ، ان دو نوں صورتوں میں وہ بعد میں قضاء کرے گی اور اس پر فدیہ بھی ہمارے نزدیک واجب نہیں ہے ۔
وجہ: (١)چونکہ یہ دونوں عورتیں بعد میں قضا کر سکتی ہیں اس لئے ان دونوں پر فدیہ نہیں ہے۔تاخیر کے ساتھ روزے قضا ہی کریںگی۔اور شیخ فانی کو اب تندرست ہونے کی امید نہیں ہے اس لئے وہ فدیہ دیںگے۔ البتہ چونکہ بچہ ضائع ہو جانے کا خوف ہے اس لئے یہ عورتیں بیمار اور مسافر کے درجے میں ہوئیں اس لئے ابھی افطار کریں گی اور بعد میں قضا کریںگی(٢) حدیث میں ہے۔ عن انس بن مالک رجل من بنی عبد اللہ بن کعب ... احدثک عن الصوم او الصیام ان اللہ وضع عن المسافر شطرالصلوة وعن الحامل او المرضع الصوم او الصیام قالھما النبی ۖ کلیھما او احدھما۔ (ترمذی شریف ، باب ماجاء فی الرخصةفی الافطار للحبلی والمرضع ص ١٥٢ نمبر ٧١٥ ابو داؤد شریف ، باب من قال ھی مثبتة للشیخ والحبلی ص