Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 3

106 - 689
(٩٥٩) وان اخَّرہ حتی دخل رمضان اٰخر صام الثانی لانہ فی وقتہ وقضی الاول بعدہ لانہ وقت القضاء ولا فدےة علیہ)   ١  لان وجوب القضاء علی التراخی حتی کان لہ ان یتطوع  

بھی جائز ہے کہ دو روز رکھے پھر کچھ دنوں کے بعد چار روزے رکھے اور تفریق کر کے دس روز پورے کرے ۔ کیونکہ آیت میں مطلق ہے کہ مریض اور مسافر  بعد میں پورا کرے ، البتہ مسلسل رکھ کر جلدی پورا کرے تو بہتر ہے تا کہ واجب جلدی سے ساقط ہو جائے۔ 
وجہ:  (١)عن ابن عمر ان النبی ۖ قال فی قضاء رمضان ان شاء فرق وان شاء تابع (دار قطنی، باب القبلة للصائم  ،ج ثانی ،ص ١٧٤ نمبر ٢٣٠٥ ٢٣٠٨) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ تفریق کرکے اور مسلسل رکھ کر قضا کرنا دونوں کی گنجائش ہے۔(٢) البتہ مسلسل روزہ رکھ کر جلدی فرض سے سبکدوش ہونا زیادہ بہتر ہے ،حدیث میں ہے  ۔عن ابی ھریرة قال قال رسول اللہ ۖ من کان علیہ صوم من رمضان فلیسردہ ولا یقطعہ۔ (دار قطنی، باب القبلة للصائم ج ثانی، ص ١٧١ نمبر ٢٢٨٩) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ منقطع نہ کرے بلکہ مسلسل روزہ رکھ کر جلدی اس کو پورا کرے۔
ترجمہ:  (٩٥٩)  رمضان کی قضا کو مؤخر کرتا رہا یہاں تک کہ دوسرا رمضان آ گیا تو دوسرے رمضان کا روزہ رکھے گا۔ اس لئے کہ یہ اس کا وقت ہے ۔ اور پہلے رمضان کی قضا بعد میں کرے گا۔اس لئے کہ بعد میں بھی قضا ء کا وقت ہے ۔ اور اس پر کوئی فدیہ نہیں ہے۔  
تشریح:  ایک آدمی پر رمضان کے کچھ روزے قضا تھے لیکن سستی سے اس کو مؤخر کرتا رہا یہاں تک کہ دوسرے سال کا رمضان آگیا تو دوسرے سال کے رمضان کے روزے ابھی ادا کرے گا اور پہلے سال کی قضا اس رمضان کے بعد کرے گا۔  
وجہ:  (١)پہلے سال کے روزے قضا ہو ہی گئے ہیں۔ اب دوسرے سال کو مؤخر کرتے ہیں تو یہ بھی قضا ہو جائیںگے۔ اس لئے دوسرے سال کے روزے کو اپنے وقت پر ادا کرے اور پہلے سال کے روزے کی قضا میں کرے (٢) اثر میں ہے ، عن ابی ھریرة قال ان انسانا مرض فی رمضان ثم صح فلم یقضہ حتی ادرکہ شھر رمضان اخر فلیصم الذی احدث ثم یقضی الآخر ویطعم مع کل یوم مسکینا  ( مصنف عبد الرزاق ، باب المریض فی رمضان و قضائہ ،ج رابع ،ص١٧٩ نمبر٧٦٥١) اس اثر سے معلوم ہوا کہ دوسرے رمضان کے روزے پہلے ادا کرے گا اور پہلے رمضان کے روزے بعد میں قضا کرے گا۔اور فدیہ اس لئے لازم نہیں ہوگا کہ قضا ہونے کے بعد کبھی بھی قضا کرے وہ قضا ہی ہے اس لئے اس پر کوئی فدیہ نہیں ہے۔اثر میں ہر دن کے بدلے ایک مسکین کوکھلانے کا جو تذکرہ ہے بطور استحباب کے ہے۔بطور فدیہ اور وجوب کے نہیں ہے۔
ترجمہ:   ١  اس لئے کہ قضا کا وجوب تراخی کے ساتھ ہے یہی وجہ ہے کہ اس کے لئے جائز ہے کہ نفلی روزہ رکھے ۔ 
تشریح :   آیت (فعدة من ایام اخر) میں اس بات کی گنجائش دی گئی ہے کہ بعد میں کبھی بھی قضاء کرے اس لئے دوسرے 

Flag Counter