الخلف وفی ہٰذہ المسألة السبب ادراک العدَّة فیتقدر بقدرما ادرک (٩٥٨) وقضاء رمضان ان شاء فرَّقہ وان شاء تابعہ ) ١ لاطلاق النص لکن المستحب المتابعة مسارعةً الیٰ اسقاط الواجب
خلیفہ کے حق میں وجوب ظاہر ہو گا ، اور اس مسئلے ]یعنی رمضان کے مسئلے[ میں دن کو پا نا سبب ہے اس لئے جتنا دن پا ئے گا اتنا ہی واجب ہو گا ۔
تشریح : نذر کے بارے میں اختلاف ہے اس کو مثال سے سمجھیں ۔ مثلا ایک آدمی بیمار تھا ، بیماری کی حالت میں نذر مانی کہ میں دس دن کا روزہ رکھوں گا ، اس کے بعد وہ تندرست نہیں ہوا اور اسی حال میں مر گیا تو کسی امام کے یہاں اس کا فدیہ دینے کی وصیت کر نے کی ضرورت نہیں ہے ، کیونکہ اس نے ایک دن بھی صحت کا نہیں پا یا ۔ لیکن بیماری کے بعد دو روز تک تندرست رہا اور اس نے نذر کا دو روزہ نہیں رکھا اور پھر انتقال ہو گیا ، تو اس بارے میں اختلاف ہے ، امام محمد فر ما تے ہیں کہ انکو صرف دو روزے کے فدیے کی وصیت کر نی چا ہئے ، باقی آٹھ روزے کی نہیں ، کیونکہ اس نے روزہ رکھنے کے لئے صرف دو روز صحت کی حالت میںپا یا ہے باقی کا نہیں اس لئے دو روز کے فدیئے کی وصیت کرے ۔ جیسے کہ رمضان میں جتنے روز صحت کے پا تے اتنے روز کا ہی فدیہ کی وصیت کر نا لازم ہوتا۔
امام ابو حنیفہ اور امام ابو یوسف فر ماتے ہیں کہ اگر چہ صرف دو روز صحت کا ملا ہے لیکن پورے دس روز کے فدیئے کی وصیت کرے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں دن کا پا نا اور صحت کا ملنا روزہ رکھنے کا سبب نہیں ہے کہ جتنا دن صحت کا ملے اتنا ہی دن روزہ واجب ہو ، بلکہ یہاں روزہ واجب ہو نے کا سبب نذر ما ننا ہے ، اس لئے ایک دن بھی صحت کا مل گیا تو پورے دس دن کے اکٹھے روزے واجب ہو نگے ، اور ان دس دنوں کا روزہ نہیں رکھا ہے اس لئے دس دن کے فدئے کی وصیت کر کے جائے ۔
اصول : رمضان کی قضاء میں روزے کا سبب صحت ملنا ہے اس لئے جتنے دن کی صحت ملی اتنے ہی دن کا فدیہ واجب ہو گا ۔
اصول : اور نذر میں روزے کا سبب خود نذر ما ننا ہے اس لئے ایک دن بھی صحت کا ملا تو نذر کے سارے دن واجب ہو نگے۔
لغت : ادراک العدة : عدت سے مراد اس آیت میں ۔ومن کان مریضا او علی سفر فعدة من ایام اخر۔(آیت ١٨٥ سورة البقرة ٢)اس آیت میں ہے عدة من ایام آخر ، اسکی طرف اشارہ ہے ،کہ مریض اور مسافر کو رمضان کے بعد جب ٹائم ملے اس وقت روزہ رکھنا ہے
ترجمہ: (٩٥٨) قضا ء رمضان چاہے تو الگ الگ کرکے رکھے چاہے تو مسلسل رکھے۔
ترجمہ: ١ آیت کے مطلق ہو نے کی وجہ سے ، لیکن مستحب یہ ہے کہ مسلسل رکھے تا کہ واجب کے ساقط کر نے میں جلدی ہو۔
تشریح: مثلا دس روز رمضان کے روزے قضا ہوئے تھے تو یہ بھی جائز ہے کہ مسلسل دس روز روزے رکھ کرپورے کرے اور یہ