٢ وفائدتہ وجوب الوصےة بالاطعام ٣ وذکر الطحاوی خلافا فیہ بین ابی حنیفة وابی یوسف وبین محمد ولیس بصحیح وانما الخلاف فی النذر ٤ والفرق لہما ان النذر سبب فیظہر الوجوب فی حق
ورثہ پر ان پانچ روزوںکا فدیہ دینا لازم ہوگا۔یہی حال مسافر کا ہے۔
وجہ: (١)آیت میں ہے۔ ومن کان مریضا او علی سفر فعدة من ایام اخر۔(آیت ١٨٥ سورة البقرة ٢) اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ رمضان میں روزہ نہ رکھ سکے تو جب فرصت ہو تو روزہ رکھے۔ اور اس کو فرصت ہو چکی تھی،تندرستی آ چکی تھی اس لئے روزہ رکھنا چاہئے تھا۔ اور نہیں رکھا تو قضا لازم ہوگی کیونکہ اس کو موقع مل چکا تھا ، اور نہیں رکھا تو گنہگار ہو گا ، اس کو چاہئے کہ مر تے وقت ورثہ کو فدیہ دینے کی وصیت کرے (٢) حدیث میں ہے ۔ عن عبادة بن نسی قال قال النبی ۖ من مرض فی رمضان فلم یزل مریضا حتی مات لم یطعم عنہ وان صح فلم یقضہ حتی مات اطعم منہ (مصنف عبد الرزاق ، باب المریض فی رمضان وقضائہ ج رابع ص ١٨٢ نمبر ٧٦٦٥) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ پہلے رمضان کی قضا کرنا چاہئے۔اور نہ کر سکا تو ورثہ اس کا فدیہ دیںگے۔کیونکہ قضا کا وقت ملا تھا۔
ترجمہ: ٢ اس کا فائدہ یہ ہو گا کہ کھا نا کھلانے کی وصیت کر نا واجب ہو گا ۔
تشریح : متن میںہے کہ مسافر اور مریض کوقضاء کر نے کا وقت ملا اور قضاء نہیں کر سکا اور مرنے کا وقت آگیا تو ورثہ کو وصیت کر نی چاہئے کہ اتنے دنوں کا فدیہ میرے مال میں سے ادا کر دیں ۔
ترجمہ: ٣ امام طحاوی نے اس بارے میں امام ابو حنیفہ اور امام ابو یوسف اور امام محمد کے درمیان اختلاف ذکر کیا ہے ۔لیکن یہ صحیح نہیں ہے ، اختلاف تو نذر کے بارے میں ہے ۔
تشریح : صاحب ھدایہ فر ما تے ہیں کہ امام طحاوی نے امام ابو حنیفہ اور امام ابو یوسف اور امام محمد کے درمیان اختلاف ذکر کیا ہے کہ ۔مثلا مسافر کا رمضان میں دس روزے چھوٹے اور وہ عید کے بعد پانچ روز گھر میں رہا اور پانچ روزے رکھنے کا موقع ملا لیکن وہ پانچ روز بھی روزہ نہیں رکھا اور مر گیا تو امام ابو حنیفہ اور امام ابو یوسف فر ما تے ہیں کہ پورے دس دن کے فدیہ دینے کی وصیت کرے ۔ اور امام محمد فر ما تے ہیں کہ صرف پانچ دن کا فدیہ دینے کی وصیت کرے ، کیونکہ اس کو صرف پانچ دن ہی کے روزے رکھنے کا موقع ملا ہے ، زیادہ کا نہیں ۔ صاحب ھدایہ یہ فر ما تے ہیں کہ رمضان کے روزے چھوٹنے کے بارے میں یہ اختلاف نہیں ہے رمضان کے بارے میں تو سب یہی کہتے ہیں کہ جتنا وقت پا یا ہے صرف اتنے ہی وقت کی وصیت کرے ۔ البتہ نذر ما ننے کی شکل میں یہ اختلاف ہے ۔ ۔ نوٹ : طحاوی شریف میں مجھے کوئی ایسی عبارت نہیں ملی اور نہ اسکا کوئی باب باندھا ہے جس میں امام ابو حنیفہ اور امام ابو یوسف اور امام محمد کے در میان کوئی اختلاف ہو۔ و اللہ اعلم
ترجمہ: ٤ امام ابو حنیفہ اور امام ابو یوسف کے لئے فرق کی وجہ یہ ہے کہ نذر خود روزہ واجب ہو نے کا سبب ہے اس لئے