Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 3

103 - 689
(٩٥٦) واذا مات المریضُ والمسافر وہما علیٰ حالہما لم یلزمہما القضاء لانہما)   ١   لم یدرکا عدة من ایام اُخر (٩٥٧) ولو صح المریض واقام المسافرثم ما تالزمہما القضاء بقدر الصحة والاقامة)
  ١  لوجود الادراک بہٰذا المقدار  
لینا بہتر ہو گا تاکہ ثواب بھی ستر گنا زیادہ ہو اور دوسرے لو گوں کے ساتھ روزہ بھی رکھ لے ۔ اور امام شافعی  کی جانب سے جو حدیث گزری وہ اس وقت ہے جب کہ مشقت شدیدہ ہو تو اس وقت روزہ توڑ دینا افضل ہے   
ترجمہ:  (٩٥٦)  اگر مریض اور مسافر مر جائے اور دونوں اپنی اپنی حالت پر تھے تو ان دونوں کو قضا لازم نہیں ہے۔ 
ترجمہ:   ١  اس لئے کہ بیمار اور مسافر نے قضاء کر نے کے دوسرے دن نہیںپائے ]اس لئے ان پر قضاء لازم نہیں ہے ۔ 
تشریح:  مریض کا مثلا دس روز رمضان کے روزے چھوٹے تھے اور ابھی مرض کی ہی حالت میں تھا ، اس کو اس روزے کی قضا کرنے کا موقع نہیں ملا اور انتقال ہوگیا تو اس دس روزے کا کفارہ دینے کی ضرورت نہیں ہے ۔کیونکہ آیت کی بنا پراس کو قضاء کر نے کا موقع ہی نہیں ملا ۔ 
 وجہ: (١) کیونکہ رمضان میں اس کے لئے روزہ رکھنا معاف تھا۔اور بعد میں اس کو موقع ہی نہیں ملا کہ قضا کر سکے اس لئے اس دس روزے کی قضا کرنا لازم نہیں۔ اور اب موت کے بعد قضا تو نہیں کر سکے گا تو اس کے بدلے ورثہ پر فدیہ دینا بھی لازم نہیں ہوگا۔ یہی حال مسافر کا ہے کہ سفر میں کچھ روزے چھوٹے تھے اور ابھی سفر کی حالت میں تھا کہ انتقال ہو گیا تو چھوٹے ہوئے دنوں کا فدیہ ورثہ پر دینا لازم نہیں ہوگا ۔(٢)       اس آیت میں ہے کہ بیمار اور مسافر بعد میں روزہ رکھیں۔ ومن کان مریضا او علی سفر فعدة من ایام اخر۔(آیت ١٨٥ سورة البقرة ٢) ا(٣) اس اثر میں ہے ۔عن عطاء قال : اذا مرض الرجل فی رمضان فلم یصح حتی مات فلیس علیہ شیء غلب علی امرہ و قضائہ   (مصنف عبد الرزاق ، باب المریض فی رمضان وقضائہ ج رابع ص ١٨٢ نمبر ٧٦٦٥)اس اثر میں ہے کہ رمضان میں بیمار ہوا اور قضاء کا موقع نہیں ملا تو تو اس پر قضاء لازم نہیں ہے ۔ 
اصول:  قضا کا وقت نہ ملے تو قضا کرنا لازم نہیں ہے۔
ترجمہ:  (٩٥٧)  اگر مریض تندرست ہو جائے یا مسافر مقیم ہو جائے پھر دونوں مر جائے تو دونوں کی صحت کی مقدار اور اقامت کی مقدار قضا لازم ہوگی۔  
ترجمہ:   ١  اس مقدار وقت پانے کی وجہ سے 
تشریح:  مثلا مرض کی حالت میں دس روز رمضان کے روزے چھوٹے تھے۔اب وہ پانچ روز صحت یاب ہوا اور روزہ قضا کر سکتا تھا لیکن قضا نہیں کیا اور انتقال ہو گیا تو پانچ روز کی قضا لازم ہے، کیونکہ اتنا وقت اس نے پا یا ہے ۔لیکن موت کے بعد قضا نہیں کر سکتا تو 


Flag Counter