Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 3

102 - 689
٢   الی الحرج وقال الشافعی الفطر افضل لقولہ صلی اﷲ علیہ وسلم لیس من البرالصیام فی السفر 
٣   ولنا ان رمضان افضل الوقتین فکان الاداء فیہ اولیٰ وما رواہ محمول علی حالة الجہد  
 
تشریح :  یہاں مرض اور سفر کے درمیان فر ق بیان فر ما رہے ہیں ، کہ سفر میں روزہ رکھنے سے حرج ہو یا نہ ہو ہر حال میں روزہ توڑنے کی اجازت ہے ، اور بیماری میں یہ ہے کہ روزہ رکھنے سے بیماری بڑھتی ہو تو روزہ نہ رکھے اور بیماری نہ بڑھتی ہو تو روزہ رکھنا ضروری ہے۔ تو اس کی وجہ بتا رہے ہیں کہ سفر مشقت سے خالی نہیں ہو تی ہے ، کم سے کم ذہنی پریشانی تو ضرور ہو تی ہے اس لئے سفر کو مشقت کے درجے میں رکھ کر روزہ توڑنے کی اجازت دے دی گئی ، اور بیماری کی صورت یہ ہے کہ روزہ رکھنا بعض بیماری کے لئے مفید ہو تا ہے ، مثلا پیچش ہو تو اس میں روزہ رکھنا مفید ہے اس لئے یہ شرط لگائی گئی کہ روزہ بیماری کو بڑھا تا ہو تونہ رکھنے کی گنجائش ہے لیکن اگر بڑھا تا نہ ہو تو روزہ رکھنا ضروری ہے ۔
لغت :  یعری : خالی ہو تا ہے ۔ یخف :ہلکا ہو تا ہے ، کم ہو تا ہے ۔ مفضی : پہونچانے والا ۔ الحرج : مشقت ، پریشانی ۔ 
ترجمہ:  ٢   امام شافعی  نے فر ما یا کہ مسافر کے لئے افطار افضل ہے ، حضور ۖ کے قول کی وجہ سے کہ سفر میں روزہ نیکیوں میں سے نہیں ہے ۔ 
تشریح :   امام شافعی فر ما تے ہیں کہ مسافر کو روزہ توڑنا ہی بہتر ہے ، کیونکہ حدیث میں ہے کہ سفر میں روزہ نیکی نہیں ہے ،صاحب ھدایہ کی حدیث یہ ہے ۔ عن جابر بن عبد اللہ عن النبی ۖ رای رجلا یظلل علیہ والزحام علیہ فقال لیس من البر الصیام فی السفر  (ابو داؤد شریف ، باب اختیار الفطر ص ٣٣٤ نمبر ٢٤٠٧ مسلم شریف ، باب جواز الصوم فی شہر رمضان للمسافر ص ٣٥٦ نمبر ١١١٥ ٢٦١٢) اس حدیث میں ہے کہ سفر میں روزہ نیکی نہیں ہے ۔ لیکن یہ حدیث مشقت شدیدہ کے موقع کی ہے ۔ کہ مشقت شدیدہ کے موقع پر مثلا سخت گر می ہو اور دشمن سے جہاد کر نا ہو تو اس وقت روزہ رکھنا نیکی نہیں ہے، خود اسی حدیث میں ہے کہ وہ آدمی روزے کی وجہ سے بیہوش ہو کر گر پڑا تھا تو آپ ۖ نے  فر ما یا کہ اس کے لئے روزہ رکھنا نیکی نہیںہے ۔ چنانچہ مو سوعہ میں ہے کہ عام حالات میں روزہ خوشی سے رکھ سکتا ہو تو روزہ رکھنا بہتر ہے ۔ مو سوعہ کی عبارت یہ ہے ۔ انما نقول یفطر و یصوم و ھو یعلم أن ذالک واسع لہ فاذا جاز ذالک فالصوم أحب الینا لمن قوی علیہ ۔  ( مو سوعہ امام شافعی ،باب الجماع فی رمضان و الخلاف علیہ ، ج رابع ، ص٣٧١، نمبر٥٠١٤)اس عبارت میں ہے کہ سفر میں روزہ رکھ سکتا ہو تو روزہ رکھنا بہتر ہے ۔
ترجمہ: ٣   اور ہماری دلیل یہ ہے کہ رمضان افضل وقت ہے اس لئے اس میں ادا کر نا اولی ہو گا ۔ اور جو حدیث پیش کی ہے وہ مشقت کی حالت پر محمول ہے ۔ 
تشریح :   یہ دلیل عقلی ہے کہ اور وقتوں کی بنسبت رمضان کا وقت افضل وقت ہے اس لئے مسافر کے لئے رمضان میں روزہ رکھ 

Flag Counter