رہتا (عىن مشکوٰۃ از ترمذى)
ف:۔ اور جب ہر مؤمن کو حضور اقدس سے محبت ہے تو آپ کے محبوب شہر ىعنى مکہ معظمہ سے بھى ضرور محبت ہوگى تو مکہ سے محبت دو پىغمبروں کى دعا کا اثر ہوا۔ ىہ تو حج کى اور مقام کى دىنى فضىلت تھى جو کہ اصلى فضىلت ہے اور بعضى دنىوى منفعتىں بھى اﷲتعالىٰ نے اس مىں رکھى ہىں گو حج مىں ان کى نىت نہ ہونى چاہئے مگر وہ خود حاصل ہوتى ہىں چنانچہ آگے دو آىتوں مىں اس طرف اشارہ ہے۔
جَعَلَ اللَّهُ الْكَعْبَةَ الْبَيْتَ الْحَرَامَ قِيَامًا لِلنَّاسِ وَالشَّهْرَ الْحَرَامَ وَالْهَدْيَ وَالْقَلَائِدَ ذَلِكَ لِتَعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ وَأَنَّ اللَّهَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ . المائدة: ٩٧
ارشاد فرماىا اﷲتعالىٰ نے کعبہ کو جو کہ ادب کا مقام ہے لوگوں( کى مصلحت) قائم رہنے کا سبب قرار دىا الخ (مائدہ، آىت:97)
ف:۔ مصلحت عام لفظ ہے، سو کعبہ کى دىنى مصلحتىں تو ظاہر ہىں، اور دنىوى مصلحتىں بعضى ىہ ہىں: اس کا جائے امن ہونا، وہاں ہر سال مجمع ہونا جس مىں مالى ترقى اور قومى اتحاد بہت سہولت سے مىسر ہوسکتا ہے، اور اس کے بقا تک عالَم کا باقى رہتا حتّٰى کہ جب کفار اس کو منہدم کر دىں گے قرىب ہى قىامت آجاوے گى جىسا احادىث سے معلوم ہوتا ہے (بىان القرآن بحاصلہ)
اﷲتعالىٰ نے (حج کے لئے لوگوں کے آنے کى حکمت مىں ىہ) ارشاد فرماىا: