ماہنامہ انوار مدینہ لاہور ستمبر 2013 |
¾اكستان Ù |
|
قسمت آزمائی کے لیے وکیل کی فیس، لاہور یا کراچی کے سفر، وہاں کے قیام و طعام کے مصارف اَور ''اِنشورنس'' جیسے طاقتور اِدارے سے نامعلوم مدت تک مقدمہ بازی کی نئی مصیبت مول لینے کی ہمت یا حماقت کیسے کرسکے گا ؟ اَور اگر بالفرض وہ کراچی یا لاہور ہی میں ہے تب بھی کیا وہ بیس ہزار روپے سے کئی گنا زیادہ خرچ اَور یہ ساری مصیبتیں جھیلنے کے بجائے اِسی میں اپنی عافیت نہیں پائے گا کہ وہ کمپنی کے اِس موہوم وعدے کو بھول جائے اَور جو اِنشورنس فیس کمپنی نے اُس سے ہر سال وصول کی ہے اُسے بھی ''بھتہ مافیا'' کے بھتوں کی طرح ایک جبری ''بھتہ خوری'' سمجھ کر صبر کر بیٹھے بلکہ اَصل حقیقت تو یہ ہے کہ گاڑی کے مالکان عام طور سے یہ ''جبری بھتہ'' بھی دیگر سرکاری ٹیکسوں کی طرح کا ایک ٹیکس ہی سمجھ کر بے چوں و چرا مجبوراً دیتے رہتے ہیں۔ بہت سوں کو یہ خبر بھی نہیں ہوتی کہ یہ رقم سرکاری خزانے کے بجائے کمپنی کے سرمایہ داروں کے پاس جارہی ہے یوں تو یہ اِنشورنس فیس بظاہر صرف سینکڑوں میں ہوتی ہے مگر اِنشورنس کمپنی کے سرمائے میں اِس سے ہر سال کتنا زبردست اِضافہ ہوتا رہتا ہے کچھ اَعداد و شمار اِس کے بھی ملاحظہ ہوں : کراچی ٹریفک پولیس کے ڈی آئی جی کی رپورٹ جو١٦اپریل ٢٠٠٨ء کو جاری ہوئی اُس کے مطابق کراچی میں کل رجسٹرڈ گاڑیوں کی تعداد٢٠٠٧ء میںاَٹھارہ لاکھ نوہزار پانچ سو تھی، اِس رپورٹ میں یہ تفصیل بھی دی گئی ہے کہ کراچی شہر میں٢٠٠٢ء سے ٢٠٠٧ء تک ہر سال گاڑیوں میں کتنا اِضافہ ہوتا رہا ہے، اِس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہر سال اِضافے کی شرح بھی بڑھتی چلی گئی ہے چنانچہ ٢٠٠٦ء میںایک لاکھ اَٹھتر ہزار سات سو تریسٹھ گاڑیوں کا اِضافہ ہوا تھا اَور ٢٠٠٧ء میں ایک لاکھ اَٹھانوے ہزار سات سو تینتالیس گاڑیوں کا اِضافہ ہوا، اَب نئی رپورٹ جس میں ٣١دسمبر ٢٠١١ء تک کے اَعدادو شمار ہیں اُس کے مطابق کراچی شہر میں کل رجسٹرڈ گاڑیوں کی تعداد چھبیس لاکھ چودہ ہزار پانچ سو اَسی ہے، پیچھے تفصیل آچکی ہے کہ اِنشورنس فیس 466 روپے میں سے کمپنی کو 400روپے ایک گاڑی پر ملتے ہیں، ہوسکتا ہے کہ چھوٹی گاڑیوں مثلاً موٹرسائیکلوں کی فیس اِس سے کم اَور بڑی گاڑیوں مثلاً بس اَور ٹرک وغیرہ کی فیس اِس سے زیادہ ہوتی ہو۔