Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہور ستمبر 2013

¾اكستان Ù

48 - 64
قسمت آزمائی کے لیے وکیل کی فیس، لاہور یا کراچی کے سفر، وہاں کے قیام و طعام کے مصارف اَور ''اِنشورنس'' جیسے طاقتور اِدارے سے نامعلوم مدت تک مقدمہ بازی کی نئی مصیبت مول لینے کی ہمت  یا  حماقت کیسے کرسکے گا  ؟  اَور اگر بالفرض وہ کراچی  یا  لاہور ہی میں ہے تب بھی کیا وہ بیس ہزار روپے سے کئی گنا زیادہ خرچ اَور یہ ساری مصیبتیں جھیلنے کے بجائے اِسی میں اپنی عافیت نہیں پائے گا کہ وہ کمپنی کے اِس موہوم وعدے کو بھول جائے اَور جو اِنشورنس فیس کمپنی نے اُس سے ہر سال وصول کی ہے اُسے بھی ''بھتہ مافیا'' کے بھتوں کی طرح ایک جبری ''بھتہ خوری'' سمجھ کر صبر کر بیٹھے بلکہ اَصل حقیقت تو یہ ہے کہ گاڑی کے مالکان عام طور سے یہ ''جبری بھتہ'' بھی دیگر سرکاری ٹیکسوں کی طرح کا ایک ٹیکس ہی سمجھ کر بے چوں و چرا مجبوراً دیتے رہتے ہیں۔ 
بہت سوں کو یہ خبر بھی نہیں ہوتی کہ یہ رقم سرکاری خزانے کے بجائے کمپنی کے سرمایہ داروں کے پاس جارہی ہے یوں تو یہ اِنشورنس فیس بظاہر صرف سینکڑوں میں ہوتی ہے مگر اِنشورنس کمپنی کے سرمائے میں اِس سے ہر سال کتنا زبردست اِضافہ ہوتا رہتا ہے کچھ اَعداد و شمار اِس کے بھی ملاحظہ ہوں  :
 کراچی ٹریفک پولیس کے ڈی آئی جی کی رپورٹ جو١٦اپریل ٢٠٠٨ء کو جاری ہوئی اُس کے مطابق کراچی میں کل رجسٹرڈ گاڑیوں کی تعداد٢٠٠٧ء میںاَٹھارہ لاکھ نوہزار پانچ سو تھی، اِس رپورٹ میں یہ تفصیل بھی دی گئی ہے کہ کراچی شہر میں٢٠٠٢ء سے ٢٠٠٧ء تک ہر سال گاڑیوں میں کتنا اِضافہ ہوتا رہا ہے، اِس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہر سال اِضافے کی شرح بھی بڑھتی چلی گئی ہے چنانچہ ٢٠٠٦ء میںایک لاکھ اَٹھتر ہزار سات سو تریسٹھ گاڑیوں کا اِضافہ ہوا تھا اَور ٢٠٠٧ء میں ایک لاکھ اَٹھانوے ہزار سات سو تینتالیس گاڑیوں کا اِضافہ ہوا، اَب نئی رپورٹ جس میں ٣١دسمبر ٢٠١١ء تک کے اَعدادو شمار ہیں اُس کے مطابق کراچی شہر میں کل رجسٹرڈ گاڑیوں کی تعداد چھبیس لاکھ چودہ ہزار پانچ سو اَسی ہے، پیچھے تفصیل آچکی ہے کہ اِنشورنس فیس 466 روپے میں سے کمپنی کو 400روپے ایک گاڑی پر ملتے ہیں، ہوسکتا ہے کہ چھوٹی گاڑیوں مثلاً موٹرسائیکلوں کی فیس اِس سے کم اَور بڑی گاڑیوں مثلاً بس اَور ٹرک وغیرہ کی فیس اِس سے زیادہ ہوتی ہو۔
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 حرف آغاز 3 1
3 جھوٹے نبی کا فتنہ : 6 2
4 عیسائیوں کی طرف سے حملے : 6 2
5 حضرت عثمان کی کیفیت : 6 2
6 نجات کا مدار کیا ہے ؟ 8 2
7 اِسلام پوری دُنیا میں پھیل کر رہا : 9 2
8 فرانس کا سکہ اَور کلمہ ٔطیبہ : 10 2
9 چین کے حاکم کو دعوت نامہ : 10 2
10 صدیوں اِسلام دُنیا کی واحد سپر پاور رہا : 10 2
11 اِسلام کی راہ میں حکمران رُکاوٹ ہیں : 11 2
12 علمی مضامین سلسلہ نمبر٦٥ 13 1
13 حضرت سیّد اَحمد شہید نور اللہ مرقدہ 13 12
14 قسط : ٢٥ پردہ کے اَحکام 29 1
15 فیشن پرستی : 29 14
16 دُوسری قوموں کا لباس اَور فیشن اِختیار کرنا عقل و نقل کی روشنی میں : 30 14
17 شرعی دلیل : 31 14
18 تشبہ یعنی دُسری قوموں کے طور طریق اِختیار کرنے کے شرعی اَحکام : 33 14
19 تشبہ ختم ہوجانے کی پہچان : 33 14
20 ضروری تنبیہ اَز مرتب : 34 14
21 دُوسری قوموں کے نئے نئے فیشن اِختیار کرنا : 35 14
22 قسط : ٢١سیرت خُلفَا ئے راشد ین 37 1
23 اَمیر المؤمنین فاروقِ اَعظم عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ 37 22
24 فاروقِ اَعظم کے گشت کے چند واقعات : 37 22
25 نظام سرمایہ داری کی لوٹ مار کا ایک اَور کرتب 44 1
26 تھرڈ پارٹی اِنشورنس، جبری : 44 25
27 گلدستۂ اَحادیث 50 1
28 سجدہ سات اَعضاء پر اَور رفع یدین سات مقامات پر کیا جائے : 50 27
29 حج نہ کرنے یا حج میں تاخیر کے حیلے بہانے 53 1
30 کیا حج بڑھاپے میں کرنے کا کام ہے ؟ 54 27
31 حج سے پہلے نماز روزہ کا بہانہ : 56 27
32 حج کے بعد گناہ نہ ہوجانے کا بہانہ : 56 27
33 پہلے کچھ کھا کمالیں : 57 27
34 گھر میں حج کا ماحول نہیں : 58 27
35 پہلے والدین کو حج کرانا : 58 27
36 پہلے گھر کے سربراہ کا حج کرنا : 58 27
37 بیوی یا والدہ کو ساتھ لے جانے کا عذر : 59 27
38 اپنی شادی کا بہانہ : 59 27
39 بچیوں کی شادی کا مسئلہ : 60 27
40 بچوں کو کس کے حوالے کریں ؟ 60 27
41 کاروبار کس کے حوالے کریں ؟ 60 27
42 حج کے بجائے عمرہ کرنا : 61 27
43 بقیہ : نظام سرمایہ داری کی لوٹ مار کا ایک اَور کرتب 61 25
44 اَخبار الجامعہ 62 1
45 وفیات 63 1
Flag Counter