Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہور ستمبر 2013

¾اكستان Ù

47 - 64
(i) پریمیم (یعنی خالص اِنشورنس کی فیس جو کمپنی کے لیے ہے) 400روپے۔ (ii) اِنتظامی سرچارج (پتہ نہیں یہ کس کو ملتا ہے؟)20روپے۔
 (iii)سینٹرل اَیکسائز ڈیوٹی40روپے۔ (iv) فیڈرل اِنشورنس فیس (اِس کا بھی پتہ نہیں کس کو ملتی ہے؟) 4روپے۔(v) اسٹمپ ڈیوٹی 2روپے۔
 میزان 466  روپے۔ اَب یہ فیس سالِ رواں 2013ء میں 470 روپے وصول کی گئی ہے۔  
(١٢)  یہ فیس صرف ایک سال کے لیے کارآمد ہے اَگلے ہر سال کے لیے اَلگ فیس اَدا کرنا ضروری ہے۔ 
(١٣)  اِس فیس کی اَدائیگی پر کمپنی کی طرف سے جو ''اِنشورنس کا سرٹیفکیٹ'' پولیس کے چالان سے بچنے کے لیے گاڑی کے مالک کو ملتا ہے وہ گاڑی کے کسی نئے مالک کو منتقل نہیں کیا جاسکتا سال بھر میں اِس گاڑی کے جتنے مالک تبدیل ہوں گے اُن سب کو اپنی اپنی فیس اَلگ اَلگ اَدا کرنی ہوگی ورنہ سب کا چالان ہوگا۔ 
(١٤)  کمپنی سے تلافی ٔ نقصان کی یہ حقیر رقم یعنی بیس ہزار روپے حاصل کرنے کے لیے جو طریقہ تحریر کیا گیا ہے اُسے اچھی طرح سمجھنا اَور اُس کے مطابق کارروائی پاکستان جیسے ملک میں کرنا عملاً کسی وکیل کے بغیر تقریبًا ناممکن ہے۔ 
(١٥)  کمپنی کا ہیڈ آفس لاہور میں اَور زونل آفس کراچی میں ہے۔ اَب خود ہی اَندازہ کر لیجیے کہ جس حادثے میں ''تھرڈ پارٹی'' کی جان یا گاڑی کو بھاری نقصان پہنچا ہے اَور وہ اِن دونوں شہروں سے دُور رہتا ہے اُس کی رسائی کمپنی کے دفتر تک کیسے ہوگی  ؟ 
اُس کے لیے تو اپنے فوری علاج  یا  گاڑی کی مرمت ہی سب سے بڑا مشکل مسئلہ ہے، ایسے میں آپ تصور کیجیے وہ مصیبت زدہ اِنسان کیا صرف بیس ہزار روپے کے ''گول مول'' وعدے پر اپنی
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 حرف آغاز 3 1
3 جھوٹے نبی کا فتنہ : 6 2
4 عیسائیوں کی طرف سے حملے : 6 2
5 حضرت عثمان کی کیفیت : 6 2
6 نجات کا مدار کیا ہے ؟ 8 2
7 اِسلام پوری دُنیا میں پھیل کر رہا : 9 2
8 فرانس کا سکہ اَور کلمہ ٔطیبہ : 10 2
9 چین کے حاکم کو دعوت نامہ : 10 2
10 صدیوں اِسلام دُنیا کی واحد سپر پاور رہا : 10 2
11 اِسلام کی راہ میں حکمران رُکاوٹ ہیں : 11 2
12 علمی مضامین سلسلہ نمبر٦٥ 13 1
13 حضرت سیّد اَحمد شہید نور اللہ مرقدہ 13 12
14 قسط : ٢٥ پردہ کے اَحکام 29 1
15 فیشن پرستی : 29 14
16 دُوسری قوموں کا لباس اَور فیشن اِختیار کرنا عقل و نقل کی روشنی میں : 30 14
17 شرعی دلیل : 31 14
18 تشبہ یعنی دُسری قوموں کے طور طریق اِختیار کرنے کے شرعی اَحکام : 33 14
19 تشبہ ختم ہوجانے کی پہچان : 33 14
20 ضروری تنبیہ اَز مرتب : 34 14
21 دُوسری قوموں کے نئے نئے فیشن اِختیار کرنا : 35 14
22 قسط : ٢١سیرت خُلفَا ئے راشد ین 37 1
23 اَمیر المؤمنین فاروقِ اَعظم عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ 37 22
24 فاروقِ اَعظم کے گشت کے چند واقعات : 37 22
25 نظام سرمایہ داری کی لوٹ مار کا ایک اَور کرتب 44 1
26 تھرڈ پارٹی اِنشورنس، جبری : 44 25
27 گلدستۂ اَحادیث 50 1
28 سجدہ سات اَعضاء پر اَور رفع یدین سات مقامات پر کیا جائے : 50 27
29 حج نہ کرنے یا حج میں تاخیر کے حیلے بہانے 53 1
30 کیا حج بڑھاپے میں کرنے کا کام ہے ؟ 54 27
31 حج سے پہلے نماز روزہ کا بہانہ : 56 27
32 حج کے بعد گناہ نہ ہوجانے کا بہانہ : 56 27
33 پہلے کچھ کھا کمالیں : 57 27
34 گھر میں حج کا ماحول نہیں : 58 27
35 پہلے والدین کو حج کرانا : 58 27
36 پہلے گھر کے سربراہ کا حج کرنا : 58 27
37 بیوی یا والدہ کو ساتھ لے جانے کا عذر : 59 27
38 اپنی شادی کا بہانہ : 59 27
39 بچیوں کی شادی کا مسئلہ : 60 27
40 بچوں کو کس کے حوالے کریں ؟ 60 27
41 کاروبار کس کے حوالے کریں ؟ 60 27
42 حج کے بجائے عمرہ کرنا : 61 27
43 بقیہ : نظام سرمایہ داری کی لوٹ مار کا ایک اَور کرتب 61 25
44 اَخبار الجامعہ 62 1
45 وفیات 63 1
Flag Counter