ماہنامہ انوار مدینہ لاہور ستمبر 2013 |
¾اكستان Ù |
|
(i) پریمیم (یعنی خالص اِنشورنس کی فیس جو کمپنی کے لیے ہے) 400روپے۔ (ii) اِنتظامی سرچارج (پتہ نہیں یہ کس کو ملتا ہے؟)20روپے۔ (iii)سینٹرل اَیکسائز ڈیوٹی40روپے۔ (iv) فیڈرل اِنشورنس فیس (اِس کا بھی پتہ نہیں کس کو ملتی ہے؟) 4روپے۔(v) اسٹمپ ڈیوٹی 2روپے۔ میزان 466 روپے۔ اَب یہ فیس سالِ رواں 2013ء میں 470 روپے وصول کی گئی ہے۔ (١٢) یہ فیس صرف ایک سال کے لیے کارآمد ہے اَگلے ہر سال کے لیے اَلگ فیس اَدا کرنا ضروری ہے۔ (١٣) اِس فیس کی اَدائیگی پر کمپنی کی طرف سے جو ''اِنشورنس کا سرٹیفکیٹ'' پولیس کے چالان سے بچنے کے لیے گاڑی کے مالک کو ملتا ہے وہ گاڑی کے کسی نئے مالک کو منتقل نہیں کیا جاسکتا سال بھر میں اِس گاڑی کے جتنے مالک تبدیل ہوں گے اُن سب کو اپنی اپنی فیس اَلگ اَلگ اَدا کرنی ہوگی ورنہ سب کا چالان ہوگا۔ (١٤) کمپنی سے تلافی ٔ نقصان کی یہ حقیر رقم یعنی بیس ہزار روپے حاصل کرنے کے لیے جو طریقہ تحریر کیا گیا ہے اُسے اچھی طرح سمجھنا اَور اُس کے مطابق کارروائی پاکستان جیسے ملک میں کرنا عملاً کسی وکیل کے بغیر تقریبًا ناممکن ہے۔ (١٥) کمپنی کا ہیڈ آفس لاہور میں اَور زونل آفس کراچی میں ہے۔ اَب خود ہی اَندازہ کر لیجیے کہ جس حادثے میں ''تھرڈ پارٹی'' کی جان یا گاڑی کو بھاری نقصان پہنچا ہے اَور وہ اِن دونوں شہروں سے دُور رہتا ہے اُس کی رسائی کمپنی کے دفتر تک کیسے ہوگی ؟ اُس کے لیے تو اپنے فوری علاج یا گاڑی کی مرمت ہی سب سے بڑا مشکل مسئلہ ہے، ایسے میں آپ تصور کیجیے وہ مصیبت زدہ اِنسان کیا صرف بیس ہزار روپے کے ''گول مول'' وعدے پر اپنی