ماہنامہ انوار مدینہ لاہور ستمبر 2013 |
¾اكستان Ù |
|
(٤) اِن کاغذات میں تلافی ٔ نقصان کے لیے زیادہ سے زیادہ جس رقم کا وعدہ کیا گیا ہے وہ مضحکہ خیز حد تک اِتنی کم ہے کہ اِسے ٹریفک حادثے کے مقابلے میں ''برائے نام'' ہی کہا جاسکتا ہے یعنی صرف بیس ہزار روپے، اِنشورنس کمپنی اِس سے زیادہ اَدا کرنے کی ہرگز ذمّہ دار نہیں اگرچہ نقصان لاکھوں کا یا بے چارے ''تھرڈ پارٹی'' کی جان ہی کا ہوگیا ہو۔ (٥) یہ وعدہ اِتنی زیادہ شرائط کے ساتھ مشروط ہے کہ اِن کو پورا کرنا جوئے شیر لانے سے کم نہیں۔ (٦) پھر اِس وعدے سے بچنے کے لیے کمپنی کو اِتنے اِختیارات دیے گئے ہیں کہ اُن سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ کمپنی اَور متعلقہ قانون دَراصل کسی قسم کی تلافی ٔ نقصان کا اِرادہ نہیں رکھتے۔ (٧) اس قانونی تحریر میں انشورنس کمپنی کو جگہ جگہ ہی اختیار بھی دیا گیا ہے کہ وہ اس حقیر رقم کا دعویٰ کرنے والے کے خلاف عدالت میں اَپنا دفاع کرے۔ (٨) اس رقم کے ''بوجھ'' سے کمپنی کو بچانے کے لیے اِس قانون میں اِتنی صورتیں مستثنیٰ کردی گئی ہیں کہ اِن کے ہوتے ہوئے کسی سمجھدار آدمی کو اِس حقیر رقم کی بھی اُمید نہیں رکھنی چاہیے۔ (٩) اِس رقم کی حد تک کمپنی سے تلافی ٔ نقصان کا مطالبہ کرنے اَور اَپنا حق حاصل کرنے کا طریقہ کار کیا ہوگا ؟ وہ بھی اَچھا خاصا مبہم ہے۔ (١٠) یہ ساری تفصیلات ایسی فنی اِصطلاحوں اَور قانونی زبان میں لکھی گئی ہیں کہ اِن کو سمجھنے کے لیے صرف اَنگریزی جاننا کافی نہیں بلکہ تلافی ٔ نقصان کا مطالبہ کرنے والے کو قانونی زبان سے بھی اچھی شُد بُد ہونی ضروری ہے یا پھر وہ کسی وکیل سے مدد لے اُس کی جو فیس وکیل کو دی جائے گی اُس کا اَندازہ آپ خود کرلیجیے۔ (١١) جس گاڑی کے کاغذات اِس وقت میرے سامنے ہیں اُس کی سال (2009ئ) ''تھرڈ پارٹی اِنشورنس'' کی مطبع شدہ فیس 466 روپے ہے، وہیں اِس کی یہ تفصیل درج ہے کہ :