ماہنامہ انوار مدینہ لاہور ستمبر 2013 |
اكستان |
|
اَب جبکہ یہ مقالہ لکھ رہا ہوں اَور اِنشورنس کی بات بھی آہی گئی تو میں نے اپنے زیر اِستعمال گاڑی کے کاغذات جو اِسی اِنشورنس سے متعلق ہیں اَور تقریبًا پانچ صفحات پر مشتمل ہیں، زندگی میں پہلی بار نکال کر اُن کا تفصیلی جائزہ لیا، یہ جائزہ جو اِس مقالے کی ضرورت سے لینا پڑا ایک قسم کی ریاضت سے کم نہ تھا مگر یہ بات کھل کر سامنے آگئی کہ اِن کاغذات میں جو وعدہ دَرج ہے کہ ایک مقررہ حد تک ''تھرڈ پارٹی'' کے نقصانات کی تلافی کی جائے گی اِس پر عمل کیوں نہیں ہوتا اَور اِس اِنشورنس سے گاڑی والے یا ''تھرڈ پارٹی'' کو کوئی فائدہ کیوں نہیں پہنچتا ؟ جو صورتِ حال سامنے آئی قارئین کی دلچسپی کے لیے دَرجِ ذیل ہے : (١) اِس اِنشورنس پالیسی سے متعلق اِن کاغذات میں ساری تفصیلات اَنگریزی زبان میں باریک ٹائپ پر چھاپی گئی ہیں صرف مندرجہ ذیل عبارت جو گاڑی والے کی ذمّہ داری اَور سزا کی سخت دھمکی پر مشتمل ہے اُردو میں نسبتًا موٹے حروف میں ہے، ملاحظہ ہو : ''ضروری ہدایت : موٹر وہیکلز ایکٹ 1939ء کی دفعہ 125/94 کے تحت بغیر اِنشورنس گاڑی چلانا یا چلانے کی اِجازت دینا قانوناً جرم ہے بغیر اِنشورنس گاڑی چلانے والے کے لیے تین ماہ تک قید، جرمانے یا دونوں سزائیں بیک وقت مقرر ہیں۔'' گاڑی والے کی یہ ذمّہ داری اَور دھمکی تو کمپنی نے بڑی صاف گوئی اَور ''بے تکلفی'' سے واضح حروف میں بلکہ اُردو میں بھی چھاپ دی ہے۔ (٢) کمپنی کی ذمّہ داری کیا ہے اَور وہ اِس فیس کے عوض کیا دینے کا وعدہ کرتی ہے ؟ یہ بات ''ضرورتِ شعری'' کی بناء پر صرف اَنگریزی زبان میں چھاپی گئی ہے تاکہ موٹر رکشہ والے، ٹیکسی ڈرائیور جیسے کم پڑھے لکھے لوگ اِن کو پڑھنے کا اِرادہ بھی نہ کرسکیں خصوصًا پاکستان جیسے ملک میں۔ (٣) کمپنی کی یہ ذمّہ داری اَور متعلقہ تفصیلات باریک ٹائپ پر چھاپی گئی ہیں کمزور بینائی والا اِنہیں ذہنی کوفت کے بغیر نہیں پڑھ سکتا۔