ماہنامہ انوار مدینہ لاہور ستمبر 2013 |
اكستان |
|
کہ ایک عیسائی پادری مِلا اَور اُس نے میری گردن پکڑلی۔ میں اُس سے چھڑانے کی کوشش کرتا رہا یہاں تک کہ وہ مجھے ایک گرجا کے اَندر لے گیا، کچھ مٹی وہاں ڈھیر تھی اُس نے مجھے ایک پھاوڑا دیا کہ یہ مٹی یہاں سے ہٹاکر وہاں ڈالو اَور باہر سے بند کرکے چلاگیا۔ جب دوپہر کو وہ آیا اَور اُس نے دیکھا کہ میں نے کچھ کام نہیں کیا تو اُس نے ایک گھونسا میرے سر پر مارا۔ اُس کے جواب میں میں نے وہی پھاوڑا اُٹھاکر اُس کے سر پر ماردیا جس سے اُس کا بھیجا بہہ گیا پھر میں وہاں سے نکل کر چل دیا۔ بقیہ دِن اَور پوری رات چلتا رہا۔ قضائے اِلٰہی صبح ہوئی تو پھر ایک گرجا ہی کے دَروازے پر میں اُس کے سائے میں کچھ دیر کے لیے بیٹھ گیا ،اُس وقت اُس گرجا سے یہی شخص نکلا جس نے یہ تحریر مجھے اِس وقت دی ہے۔ یہ میرے لیے کھانا پانی لایا اَور باصرار مجھے کھلایاپلایا اَور ایک مرتبہ نیچے سے اُوپر تک مجھے دیکھ کر کہنے لگا کہ سب اہل ِ کتاب جانتے ہیں کہ اَب رُوئے زمین پر مجھ سے زیادہ کوئی عالم کتب ِ سماویہ کا نہیں۔ میں تم میں اُس شخص کی تمام علامات پاتا ہوں جو ہم کو اِس دَیر (گرجا) سے نکالے گا اَور پورے شہر پر قابض ہوجائے گا۔ میں نے اُس سے کہا کہ تم یہ کیسی بے تکی باتیں کررہے ہو ؟ اُس نے کہا اچھا اَپنا نام بتائو۔ میں نے کہا! عمر بن خطاب۔ اُس نے کہا خدا کی قسم تم ہی ہو اِس میں کچھ شک نہیں۔ پھر مجھ سے کہنے لگا کہ مجھے ایک تحریر لکھ دو کہ اِس گرجا کے متعلق جس قدر معافی ہے وہ میں نے برقرار رکھی۔ میں نے کہا کہ تم نے میرے ساتھ اِحسان کیا ہے اَب مسخرا پن کرکے اُس کو مکدر نہ کرو۔ اُس نے کہا اچھا لکھ دیجیے۔ اگر میرا خیال غلط ہے تو لکھ دینے میں آپ کا کچھ نقصان نہیں ہوگا چنانچہ میں نے ایک تحریر اُس کو لکھ کر دے دی وہی تحریر آج اُس نے میرے سامنے پیش کی ہے اَور کہتا ہے کہ اَپنا وعدہ پورا کیجیے، میں نے اُس کو یہ جواب دیا کہ مال نہ میرا ہے نہ میرے بیٹے کا، میں کیسے دے سکتا ہوں۔ ٭ یمن کے لوگ جب آتے تو آپ ایک ایک سے جاکر پوچھتے کہ تم میں اُویس قرنی کون شخص ہے ؟ یہاں تک کہ ایک مرتبہ اُویس قرنی خود آئے ہوئے تھے اُن سے ملاقات ہوگئی۔ آپ نے اُن سے پوچھا کہ تم قبیلہ مراد کی شاخ قرن سے ہو۔ اُنہوں نے کہا جی ہاں۔ آپ نے فرمایا کہ تمہارے