Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہور ستمبر 2013

اكستان

42 - 64
کہ ایک عیسائی پادری مِلا اَور اُس نے میری گردن پکڑلی۔ میں اُس سے چھڑانے کی کوشش کرتا رہا  یہاں تک کہ وہ مجھے ایک گرجا کے اَندر لے گیا، کچھ مٹی وہاں ڈھیر تھی اُس نے مجھے ایک پھاوڑا دیا کہ یہ مٹی یہاں سے ہٹاکر وہاں ڈالو اَور باہر سے بند کرکے چلاگیا۔ جب دوپہر کو وہ آیا اَور اُس نے دیکھا کہ میں نے کچھ کام نہیں کیا تو اُس نے ایک گھونسا میرے سر پر مارا۔ اُس کے جواب میں میں نے وہی پھاوڑا اُٹھاکر اُس کے سر پر ماردیا جس سے اُس کا بھیجا بہہ گیا پھر میں وہاں سے نکل کر چل دیا۔ بقیہ دِن اَور پوری رات چلتا رہا۔ قضائے اِلٰہی صبح ہوئی تو پھر ایک گرجا ہی کے دَروازے پر میں اُس کے سائے میں کچھ دیر کے لیے بیٹھ گیا ،اُس وقت اُس گرجا سے یہی شخص نکلا جس نے یہ تحریر مجھے اِس وقت دی ہے۔  یہ میرے لیے کھانا پانی لایا اَور باصرار مجھے کھلایاپلایا اَور ایک مرتبہ نیچے سے اُوپر تک مجھے دیکھ کر کہنے لگا کہ سب اہل ِ کتاب جانتے ہیں کہ اَب رُوئے زمین پر مجھ سے زیادہ کوئی عالم کتب ِ سماویہ کا نہیں۔ میں تم میں اُس شخص کی تمام علامات پاتا ہوں جو ہم کو اِس دَیر (گرجا) سے نکالے گا اَور پورے شہر پر قابض ہوجائے گا۔ میں نے اُس سے کہا کہ تم یہ کیسی بے تکی باتیں کررہے ہو  ؟  اُس نے کہا اچھا اَپنا نام بتائو۔ میں نے کہا! عمر بن خطاب۔ اُس نے کہا خدا کی قسم تم ہی ہو اِس میں کچھ شک نہیں۔ پھر مجھ سے کہنے لگا کہ مجھے ایک تحریر لکھ دو کہ اِس گرجا کے متعلق جس قدر معافی ہے وہ میں نے برقرار رکھی۔ میں نے کہا کہ تم نے میرے ساتھ اِحسان کیا ہے اَب مسخرا پن کرکے اُس کو مکدر نہ کرو۔ اُس نے کہا اچھا لکھ دیجیے۔ اگر میرا خیال غلط ہے تو لکھ دینے میں آپ   کا کچھ نقصان نہیں ہوگا چنانچہ میں نے ایک تحریر اُس کو لکھ کر دے دی وہی تحریر آج اُس نے میرے سامنے پیش کی ہے اَور کہتا ہے کہ اَپنا وعدہ پورا کیجیے، میں نے اُس کو یہ جواب دیا کہ مال نہ میرا ہے نہ میرے بیٹے کا، میں کیسے دے سکتا ہوں۔ 
٭  یمن کے لوگ جب آتے تو آپ ایک ایک سے جاکر پوچھتے کہ تم میں اُویس قرنی   کون شخص ہے  ؟  یہاں تک کہ ایک مرتبہ اُویس قرنی خود آئے ہوئے تھے اُن سے ملاقات ہوگئی۔ آپ نے اُن سے پوچھا کہ تم قبیلہ مراد کی شاخ قرن سے ہو۔ اُنہوں نے کہا جی ہاں۔ آپ نے فرمایا کہ تمہارے
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 حرف آغاز 3 1
3 جھوٹے نبی کا فتنہ : 6 2
4 عیسائیوں کی طرف سے حملے : 6 2
5 حضرت عثمان کی کیفیت : 6 2
6 نجات کا مدار کیا ہے ؟ 8 2
7 اِسلام پوری دُنیا میں پھیل کر رہا : 9 2
8 فرانس کا سکہ اَور کلمہ ٔطیبہ : 10 2
9 چین کے حاکم کو دعوت نامہ : 10 2
10 صدیوں اِسلام دُنیا کی واحد سپر پاور رہا : 10 2
11 اِسلام کی راہ میں حکمران رُکاوٹ ہیں : 11 2
12 علمی مضامین سلسلہ نمبر٦٥ 13 1
13 حضرت سیّد اَحمد شہید نور اللہ مرقدہ 13 12
14 قسط : ٢٥ پردہ کے اَحکام 29 1
15 فیشن پرستی : 29 14
16 دُوسری قوموں کا لباس اَور فیشن اِختیار کرنا عقل و نقل کی روشنی میں : 30 14
17 شرعی دلیل : 31 14
18 تشبہ یعنی دُسری قوموں کے طور طریق اِختیار کرنے کے شرعی اَحکام : 33 14
19 تشبہ ختم ہوجانے کی پہچان : 33 14
20 ضروری تنبیہ اَز مرتب : 34 14
21 دُوسری قوموں کے نئے نئے فیشن اِختیار کرنا : 35 14
22 قسط : ٢١سیرت خُلفَا ئے راشد ین 37 1
23 اَمیر المؤمنین فاروقِ اَعظم عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ 37 22
24 فاروقِ اَعظم کے گشت کے چند واقعات : 37 22
25 نظام سرمایہ داری کی لوٹ مار کا ایک اَور کرتب 44 1
26 تھرڈ پارٹی اِنشورنس، جبری : 44 25
27 گلدستۂ اَحادیث 50 1
28 سجدہ سات اَعضاء پر اَور رفع یدین سات مقامات پر کیا جائے : 50 27
29 حج نہ کرنے یا حج میں تاخیر کے حیلے بہانے 53 1
30 کیا حج بڑھاپے میں کرنے کا کام ہے ؟ 54 27
31 حج سے پہلے نماز روزہ کا بہانہ : 56 27
32 حج کے بعد گناہ نہ ہوجانے کا بہانہ : 56 27
33 پہلے کچھ کھا کمالیں : 57 27
34 گھر میں حج کا ماحول نہیں : 58 27
35 پہلے والدین کو حج کرانا : 58 27
36 پہلے گھر کے سربراہ کا حج کرنا : 58 27
37 بیوی یا والدہ کو ساتھ لے جانے کا عذر : 59 27
38 اپنی شادی کا بہانہ : 59 27
39 بچیوں کی شادی کا مسئلہ : 60 27
40 بچوں کو کس کے حوالے کریں ؟ 60 27
41 کاروبار کس کے حوالے کریں ؟ 60 27
42 حج کے بجائے عمرہ کرنا : 61 27
43 بقیہ : نظام سرمایہ داری کی لوٹ مار کا ایک اَور کرتب 61 25
44 اَخبار الجامعہ 62 1
45 وفیات 63 1
Flag Counter