ماہنامہ انوار مدینہ لاہور ستمبر 2013 |
اكستان |
|
کھا کر سیر ہوگئے اُس وقت وہاں سے ہٹے۔ ٭ جب اپنے آخری حج سے لوٹنے لگے تو اَثنائے راہ میں ایک مقام پر پہنچ کر فرمایا کہ اللہ کا شکر ہے اُس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ جس کو جو کچھ چاہتا ہے دیتا ہے ،یہ وادی ضجنا ن وہی مقام ہے جہاں میںاپنے والد خطاب کے اُونٹ چرانے کو آتا تھا، اُن کا مزاج بہت سخت تھا، مجھ سے کچھ قصور ہو جاتا تھا تو وہ مجھے مارتے تھے اَور اَب خدا نے اِس رُتبہ پر پہنچایا کہ اللہ کے سوا کوئی ایسا نہیں جس کا خوف مجھے ہوسکے۔ ٭ ایک مرتبہ مسجد سے نکلے، جارُود بھی آپ کے ساتھ تھے ایک عورت مِلی، آپ نے اُس کو سلام کیا، اُس نے سلام کا جواب دیا اَور کہا کہ اے عمر مجھے تمہارا وہ وقت یاد ہے جب بازارِ عکاظ میں لوگ تم کو عمیر کہتے تھے پھر تھوڑے ہی دنوں بعد لوگ عمر کہنے لگے اَور اَب تم اَمیرالمومنین ہو، خدا سے ڈرکے کام کرنا ۔جارُود کہتے ہیں میں نے عورت سے کہا کہ تونے اَمیرالمومنین سے بہت گستاخی کی باتیں کیں تو آپ نے مجھے منع فرمایا کہ تم اِن کو نہیں پہچانتے یہ خولہ بنت ِ حکیم ہیں جن کی بات خدا نے سات آ سمانوں ١ کے اُوپر سے سُنی ہے لہٰذا عمر تو زیادہ مستحق اِس بات کا ہے کہ اِن کی بات سُنے۔ ٭ جب اپنی خلافت کے زمانہ میں ملک ِشام تشریف لے گئے تو ایک عیسائی راہب جو دَیر قدس کا متولی تھا، آپ کے پاس آیا اَور اُس نے ایک تحریر آپ کو دی۔ آپ نے اُس تحریر کو دیکھ کر بہت تعجب کیا اَور فرمایا لَیْسَ لِعُمَرَ وَلَا لِابْنِہ یعنی یہ مال نہ عمر کا ہے نہ عمر کے بیٹے کا۔ پھر آپ نے اُس کا قصّہ بیان فرمایا کہ زمانۂ جاہلیت میں ایک تجارتی قافلہ کے ساتھ ملک ِ شام میں آیا تھا لوٹتے وقت مجھے اپنی ایک ضرورت یاد آئی لہٰذا میں راستہ ہی سے لوٹ آیا اَور دِل میں یہ خیال کیا کہ قافلہ سُست رفتاری سے چلتا ہے میں تیزی سے چل کر پھر اپنے قافلہ سے مِل جائوں گا۔ میں ایک بازار میں چلا جارہا تھا ١ یہ اِشارہ ہے اِس آیت کی طرف قد سمع اللّٰہ قول التی تجادلک فی زوجھا ترجمہ : اللہ نے اُس عورت کی بات سُن لی جو اے نبی ۖ تجھ سے اَپنے شوہر کی بابت جھگڑ رہی ہے۔