ماہنامہ انوار مدینہ لاہور ستمبر 2013 |
اكستان |
|
یہ سُن کر آپ نے فرمایا کہ اچھا اگر میں معاف کردُو ںتو تجھ سے کچھ نیکی ظاہر ہوگی۔ اُس نے کہا ہاں اَمیرالمومنین پھر کبھی ایسا نہ کروں گا۔ ٭ ایک شب کو گشت کرتے ہوئے ایک گھر کے قریب پہنچے تو سُنا کہ ایک ضعیفہ اپنی لڑکی سے کہہ رہی تھی کہ دُودھ میں پانی مِلادے۔ لڑکی نے جواب دیا کہ اَمیرالمومنین کی طرف سے اعلان ہوا ہے کہ دُودھ میں پانی مِلاکر نہ بیچا جائے، بڑھیا نے کہا اِس وقت نہ اَمیرالمومنین یہاں ہے نہ اُس کا منادی، لڑکی نے کہا اللہ کی قسم !یہ بات ہمارے لیے مناسب نہیں ہے کہ ظاہر میں تو اِطاعت کریں اَور باطن میں مخالفت۔ یہ سُن کر آپ بہت خوش ہوئے اَور اپنے غلام سے جو اُس وقت ہمراہ تھے فرمایا کہ اِس مکان پر کوئی نشان بنادو۔ دُوسرے دِن وہاں آپ نے ایک شخص کو بھیجا اَور اُس لڑکی کو اپنے صاحبزادے حضرت عاصم کے لیے پیغام دیا اَور فرمایا کہ اِس نکاح میں برکت ہوگی۔ عمر بن عبدالعزیز اِسی لڑکی کی نسل سے ہیں۔ ٭ ایک شب گشت کررہے تھے ایک گھر کی طرف سے گزر ہوا جہاں ایک عورت تھی اَور اُس کے گرد کچھ بچے بیٹھے رورہے تھے اَور چولھے پر ایک دیگچی چڑھی ہوئی تھی۔ آپ نے اُس عورت سے دَریافت کیا کہ یہ بچے کیوں رورہے ہیں ؟ اُس عورت نے کہا کہ بھوک کی وجہ سے۔ آپ نے پوچھا کہ دیگچی میں کیا چیز پک رہی ہے ؟ اُس نے کہا کہ اِس میں تو میں نے پانی بھردیا ہے ،اِن لڑکوں کو بہلارہی ہوں کہ کسی طرح سوجائیں۔ یہ سُن کر آپ کے آنسو نکل آئے اَور فورًا صدقہ کے بیت المال میں تشریف لے گئے اَور وہاں سے آپ نے کچھ آٹا اَور کچھ گھی اَور کچھ چربی اَور کچھ چھوارے اَور کچھ کپڑے اَور کچھ روپے لیے اَور فرمایا کہ اے اسلم اِن سب چیزوں کو میری پیٹھ پر لاد دے۔ اسلم نے کہا کہ اے اَمیرالمومنین میں لے چلوں گا، فرمایا نہیں، باز پُرس تو مجھ سے ہی ہوگی۔ غرض کہ اپنی پیٹھ پر لاد کر اُس عورت کے مکان تک لے گئے اَور دیگچی لے کر خود ہی کچھ آٹا اَور کچھ چربی اَور کچھ چھوارے ڈال کر اپنے ہاتھ سے مخلوط کیا اَور خود ہی چولھے میں کچھ آنچ کی، ریش مبارک آپ کی بڑی تھی اِس لیے بالوں میں دُھواں بھرگیا تھا جب وہ پک کر تیار ہوا تو اپنے ہاتھوں سے نکال کر بچوں کے سامنے رکھا جب وہ