ماہنامہ انوار مدینہ لاہور ستمبر 2013 |
¾اكستان Ù |
|
معلوم، تم نے اُس کو اِطلاع کیوں نہ دی ؟ بڑھیا نے کہا وہ اَمیرالمومنین ہے اُس کو مشرق سے مغرب تک ہر مقام کا حال معلوم کرنا چاہیے۔ یہ سُن کر آپ رونے لگے اَور فرمایا مجھے عمر پر رحم آتا ہے۔ اچھا تمہارے اُوپر جو اُس نے ظلم کیا ہے اُس کا کیا معاوضہ لوگی ؟ بڑھیا نے کہا، میرے ساتھ تمسخر نہ کرو۔ آپ نے فرمایا میں تمسخر نہیں کرتا یہ باتیں ہوہی رہی تھیں کہ سامنے سے حضرت علی اَور اِبن ِ مسعود آگئے اَور اُنہوں نے کہا السلام علیک یا اَمیرالمومنین۔ اَب بڑھیا کے حواس گم ہوگئے کہ میں نے اَمیرالمومنین کو اُن کے منہ پر بُرا کہا۔ آپ نے فرمایا کچھ حرج نہیں۔ پھر ایک چمڑے کے ٹکڑے پر ایک تحریر لکھوائی کہ عمر نے اَپنا ظلم اِس بڑھیا سے پچیس اَشرفی کے عوض میں معاف کرایا ہے اَب یہ قیامت کے دِن اللہ کے سامنے دعویٰ نہیں کرسکتی اَور اِس پر حضرت علی اَور اِبن ِ مسعود کی گواہی کرائی۔ ٭ ایک شب کو گشت کررہے تھے، ایک گھر سے گانے کی آواز آئی پشت کی دیوار سے چڑھ کر آپ گھر کے اَندر گئے تو دیکھا کہ ایک شخص ہے جس کے پاس ایک عورت بھی بیٹھی ہوئی ہے اَور شراب بھی رکھی ہوئی ہے۔ آپ نے فرمایا، اے دُشمن ِ دین کیا تو یہ سمجھتا تھا کہ باوجود اِن معاصی کے اللہ تیری سترپوشی کرے گا۔ اُس نے کہا کہ اے اَمیرالمومنین سزا دینے میں جلدی نہ کیجیے، میں نے صرف ایک گناہ کیا لیکن آپ نے تین ١ گناہ کیے۔ اَوّل یہ کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ کسی کے عیب کا تجسس نہ کرو اَور آپ نے کیا۔ دوم یہ کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ گھروں میں دَروازے کی طرف سے جائو ۔اَور آپ میرے مکان میں پشت کی دِیوار سے آئے۔ سوم یہ کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ کسی کے گھر میں بغیر اُس کی اِجازت کے نہ جائو ۔اَور آپ میرے گھر میں بغیر میری اِجازت کے آئے۔ ١ اُس شخص کی تینوں باتوں کا جواب آسان تھا مگر آپ کی ذات پر کوئی شخص اعتراض کرتا تو آپ اُس کو رَد نہ فرماتے۔ یہ تینوں حکم حاکم ِ وقت کے لیے نہیں ہیں وہ اِنتظامی معاملات میں تجسس بھی کرسکتا ہے گھر کے اَندر پشت کی جانب سے اَور بغیر اِجازت کے بھی جاسکتا ہے۔