ماہنامہ انوار مدینہ لاہور ستمبر 2013 |
اكستان |
|
جلدی دُودھ کیوں چھڑاتی ہے ؟ اُس نے کہا بات یہ ہے کہ عمر بن خطاب وظیفہ اُسی بچے کا مقرر کرتے ہیں جو دُودھ چھوڑچکتا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ تم اَبھی جلدی نہ کرو پھر آپ نمازِ فجر پڑھنے تشریف لائے اَور بعد نماز کے آپ بہت روئے اَور فرمایا کیسی خرابی عمر کی ہوگی، معلوم نہیں کتنے مسلمان بچوں کی اُس نے جان لی پھر آپ نے حکم دیا کہ اعلان کردیا جائے کہ لوگ اپنے بچوں کے دُودھ چھڑانے میں جلدی نہ کریں مسلمان بچے کا وظیفہ پیدا ہوتے ہی مقرر ہوجایا کرے گا پھر یہی حکم آپ نے تمام صوبوں کے حکام کو لکھ بھیجا۔ ٭ حضرت اَنس فرماتے ہیں کہ ایک شب میں حضرت فاروقِ اعظم گشت کررہے تھے۔ ایک اعرابی کی طرف سے آپ کا گزر ہوا جو اَپنے خیمے کے سامنے بیٹھا ہوا تھا آپ اُس کے پاس بیٹھ کر باتیں کرنے لگے اَور اُس سے پوچھنے لگے کہ تم اِس طرف کیوں آئے ہو ؟ یہی باتیں آپ اُس سے کر رہے تھے کہ یکایک خیمے سے رونے کی آواز آئی۔ آپ نے دریافت کیا کہ یہ رونے کی آواز کیسی ؟ اُس اعرابی نے کہا یہ بات تم سے تعلق نہیں رکھتی۔ ایک عورت ہے اُس کے دردِ زِہ ہورہا ہے۔ یہ سُن کر آپ اپنے مکان میں تشریف لائے اَور فرمایا اے اُمّ کلثوم ذرا کپڑے تو پہنو اَور میرے ہمراہ چلو۔ چنانچہ آپ اُن کو لے کر اُس اعرابی کے پاس پہنچے اَور فرمایا کہ کیا اِس عورت کو تم اِجازت اَندر آنے کی دیتے ہو، اِس کی وجہ سے تنہائی کی تکلیف رَفع ہوجائے گی۔ اُس اعرابی نے اِجازت دی اَور وہ اَندر تشریف لے گئیں۔ تھوڑی دیر بعد اُمّ کلثوم نے پکارکر کہا کہ اَمیرالمومنین اپنے دوست کو خوشخبری دیجیے کہ لڑکا پیدا ہوا۔ اُس اعرابی نے اَمیرالمومنین کہتے سُنا تو کانپ گیا اَور جلدی سے مؤدب ہوکر بیٹھا اَور معذرت کرنے لگا۔ آپ نے فرمایا کوئی حرج کی بات نہیں، صبح کو ہمارے پاس آنا اَور پھر آپ نے اُس بچہ کا وظیفہ مقرر کرکے اُس کو کچھ دیا۔ ٭ جب ملک ِ شام سے واپس ہوئے تو ایک روز تنہا گشت کے لیے نکلے ایک بڑھیا ملی اُس سے آپ نے حالات پوچھنا شروع کیے کہ عمر جو تمہارا اَمیرالمومنین ہے کیسا آدمی ہے ؟ اُس بڑھیا نے بُرائی بیان کی اَور کہا جب سے وہ خلیفہ ہوا مجھے ایک پیسہ بھی نہ مِلا۔ آپ نے فرمایا، عمر کو تمہارا حال کیا