Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہور ستمبر 2013

اكستان

27 - 64
اَمیر اَمان اللہ کے عہد ِحکومت میں اَفغانستان میں بڑے بڑے عہدوں پر فائز رہے پاکستان بننے کے بعد وہ پشاور واپس آگئے۔٧ جمادی الاوّل ١٣٦٩ھ کو اَپنے آبائی وطن میں وفات پائی۔(تاریخ ِدارُالعلوم  ص ٧٠۔ ٧١  ج ٢) 
مولانا فضل ربی صاحب کے بارے میں تحریک شیخ الہند میں تحریر ہے  : 
''فضل ربی حال ہی میں دیوبند کے مدرسہ کا متعلم تھا جہاں وہ مولانا محمود حسن کا پکا مرید بن گیا تھا مولانا کے مکان پرخفیہ جلسوں میں شریک ہو اکرتا تھا محمود الحسن نے اِسے مولوی سیف الرحمن، فضل محمود وغیرہ کے ہمراہ جہاد کی تبلیغ کے لیے آزاد علاقہ کو  بھیجا تھا ١٩١٥ء کی بہت سی لڑائیوں کے لیے ذمہ دار ہے جون ١٩١٦ء میں فضل ربی، فضل محمود اَور عبدالعزیز کے ہمراہ حاجی ترنگ زئی کی طرف سے خفیہ مشن پر سردار نصر اللہ سے ملاقات کرنے کابل گیا تھا۔ جنودِ ربانیہ کی فہرست میں کرنل ہے۔''
 ( اَز  تحریک ِشیخ الہند  ص  ٤٤/٤٢١  )
عرض یہی کرنا تھا کہ حضرت سیّد اَحمد شہید رحمة اللہ علیہ سے لے کر اَنگریزوں کے واپس جانے اَور پاکستان بننے تک وہ جگہ مجاہدین کا مرکز رہی جہاں سیّد اَحمد شہید  نے جہاد کا آغاز فرمایا تھا۔ اَفغانستان اَور آزاد قبائل کا تعلق دہلی اَور دیوبند سے اُس وقت سے آخر تک قائم رہا۔ لاہور میں حضرت مولانا اَحمد علی صاحب رحمة اللہ علیہ ہمیشہ اُن مجاہدین کی اِمداد فرماتے رہے جو یاغستان وغیرمیں تھے۔ (مولانا اَحمد علی صاحب خود بھی جنودِ رَبانیہ میں کر نل تھے۔ تحریک شیخ الہند  ١٤/٣٩١ ) 
''شہید فی سبیل اللہ ''کی حیات ِجاودانی کا دُنیا پر ایک پر تو یہ بھی ہوتا ہے کہ اُس کے نظریہ کو دوام واِستحکام حاصل ہوجاتا ہے۔ آج سر حد میں اُسی جگہ سب سے بڑا مدرسہ ہے جس کے قریب بقول اہل شہدو اِنہیں شہد میں زہر دیا گیا تھا وہ بظاہر شہید ہوگئے مقصد پورا نہ ہو سکا مگر بباطن اَور نتائج کے اِعتبار سے وہ اُتنے ہی کامیاب ہیں جس طرح زندگی میں ہوتے ۔سر حد بلکہ ہندوستان پاکستان وغیرہ میں اُن کا نظریۂ جہاد قائم ہے اَور آج اَفغانستان میں موجودہ جہاد میں حصہ لینے والے علمائِ سر حد کے
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 حرف آغاز 3 1
3 جھوٹے نبی کا فتنہ : 6 2
4 عیسائیوں کی طرف سے حملے : 6 2
5 حضرت عثمان کی کیفیت : 6 2
6 نجات کا مدار کیا ہے ؟ 8 2
7 اِسلام پوری دُنیا میں پھیل کر رہا : 9 2
8 فرانس کا سکہ اَور کلمہ ٔطیبہ : 10 2
9 چین کے حاکم کو دعوت نامہ : 10 2
10 صدیوں اِسلام دُنیا کی واحد سپر پاور رہا : 10 2
11 اِسلام کی راہ میں حکمران رُکاوٹ ہیں : 11 2
12 علمی مضامین سلسلہ نمبر٦٥ 13 1
13 حضرت سیّد اَحمد شہید نور اللہ مرقدہ 13 12
14 قسط : ٢٥ پردہ کے اَحکام 29 1
15 فیشن پرستی : 29 14
16 دُوسری قوموں کا لباس اَور فیشن اِختیار کرنا عقل و نقل کی روشنی میں : 30 14
17 شرعی دلیل : 31 14
18 تشبہ یعنی دُسری قوموں کے طور طریق اِختیار کرنے کے شرعی اَحکام : 33 14
19 تشبہ ختم ہوجانے کی پہچان : 33 14
20 ضروری تنبیہ اَز مرتب : 34 14
21 دُوسری قوموں کے نئے نئے فیشن اِختیار کرنا : 35 14
22 قسط : ٢١سیرت خُلفَا ئے راشد ین 37 1
23 اَمیر المؤمنین فاروقِ اَعظم عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ 37 22
24 فاروقِ اَعظم کے گشت کے چند واقعات : 37 22
25 نظام سرمایہ داری کی لوٹ مار کا ایک اَور کرتب 44 1
26 تھرڈ پارٹی اِنشورنس، جبری : 44 25
27 گلدستۂ اَحادیث 50 1
28 سجدہ سات اَعضاء پر اَور رفع یدین سات مقامات پر کیا جائے : 50 27
29 حج نہ کرنے یا حج میں تاخیر کے حیلے بہانے 53 1
30 کیا حج بڑھاپے میں کرنے کا کام ہے ؟ 54 27
31 حج سے پہلے نماز روزہ کا بہانہ : 56 27
32 حج کے بعد گناہ نہ ہوجانے کا بہانہ : 56 27
33 پہلے کچھ کھا کمالیں : 57 27
34 گھر میں حج کا ماحول نہیں : 58 27
35 پہلے والدین کو حج کرانا : 58 27
36 پہلے گھر کے سربراہ کا حج کرنا : 58 27
37 بیوی یا والدہ کو ساتھ لے جانے کا عذر : 59 27
38 اپنی شادی کا بہانہ : 59 27
39 بچیوں کی شادی کا مسئلہ : 60 27
40 بچوں کو کس کے حوالے کریں ؟ 60 27
41 کاروبار کس کے حوالے کریں ؟ 60 27
42 حج کے بجائے عمرہ کرنا : 61 27
43 بقیہ : نظام سرمایہ داری کی لوٹ مار کا ایک اَور کرتب 61 25
44 اَخبار الجامعہ 62 1
45 وفیات 63 1
Flag Counter