ماہنامہ انوار مدینہ لاہور ستمبر 2013 |
اكستان |
|
اَمیر اَمان اللہ کے عہد ِحکومت میں اَفغانستان میں بڑے بڑے عہدوں پر فائز رہے پاکستان بننے کے بعد وہ پشاور واپس آگئے۔٧ جمادی الاوّل ١٣٦٩ھ کو اَپنے آبائی وطن میں وفات پائی۔(تاریخ ِدارُالعلوم ص ٧٠۔ ٧١ ج ٢) مولانا فضل ربی صاحب کے بارے میں تحریک شیخ الہند میں تحریر ہے : ''فضل ربی حال ہی میں دیوبند کے مدرسہ کا متعلم تھا جہاں وہ مولانا محمود حسن کا پکا مرید بن گیا تھا مولانا کے مکان پرخفیہ جلسوں میں شریک ہو اکرتا تھا محمود الحسن نے اِسے مولوی سیف الرحمن، فضل محمود وغیرہ کے ہمراہ جہاد کی تبلیغ کے لیے آزاد علاقہ کو بھیجا تھا ١٩١٥ء کی بہت سی لڑائیوں کے لیے ذمہ دار ہے جون ١٩١٦ء میں فضل ربی، فضل محمود اَور عبدالعزیز کے ہمراہ حاجی ترنگ زئی کی طرف سے خفیہ مشن پر سردار نصر اللہ سے ملاقات کرنے کابل گیا تھا۔ جنودِ ربانیہ کی فہرست میں کرنل ہے۔'' ( اَز تحریک ِشیخ الہند ص ٤٤/٤٢١ ) عرض یہی کرنا تھا کہ حضرت سیّد اَحمد شہید رحمة اللہ علیہ سے لے کر اَنگریزوں کے واپس جانے اَور پاکستان بننے تک وہ جگہ مجاہدین کا مرکز رہی جہاں سیّد اَحمد شہید نے جہاد کا آغاز فرمایا تھا۔ اَفغانستان اَور آزاد قبائل کا تعلق دہلی اَور دیوبند سے اُس وقت سے آخر تک قائم رہا۔ لاہور میں حضرت مولانا اَحمد علی صاحب رحمة اللہ علیہ ہمیشہ اُن مجاہدین کی اِمداد فرماتے رہے جو یاغستان وغیرمیں تھے۔ (مولانا اَحمد علی صاحب خود بھی جنودِ رَبانیہ میں کر نل تھے۔ تحریک شیخ الہند ١٤/٣٩١ ) ''شہید فی سبیل اللہ ''کی حیات ِجاودانی کا دُنیا پر ایک پر تو یہ بھی ہوتا ہے کہ اُس کے نظریہ کو دوام واِستحکام حاصل ہوجاتا ہے۔ آج سر حد میں اُسی جگہ سب سے بڑا مدرسہ ہے جس کے قریب بقول اہل شہدو اِنہیں شہد میں زہر دیا گیا تھا وہ بظاہر شہید ہوگئے مقصد پورا نہ ہو سکا مگر بباطن اَور نتائج کے اِعتبار سے وہ اُتنے ہی کامیاب ہیں جس طرح زندگی میں ہوتے ۔سر حد بلکہ ہندوستان پاکستان وغیرہ میں اُن کا نظریۂ جہاد قائم ہے اَور آج اَفغانستان میں موجودہ جہاد میں حصہ لینے والے علمائِ سر حد کے